تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں مبینہ طور پر بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کے ازالے کے لیے ایرانی اثاثوں کے استعمال کی بات کی گئی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی مالیاتی نظام کے لیے تشویشناک قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ یا غیر متعلقہ دعوؤں کی بنیاد پر ضبط کرنا بین الاقوامی اصولوں سے متصادم اقدام ہے، جو عالمی مالیاتی نظام کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ریاستیں اس طرزِ عمل کو معمول بنا لیں تو دنیا میں کسی بھی ملک کے سرکاری اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے، جس سے بین الاقوامی اعتماد اور مالیاتی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید خبردار کیا کہ جو ممالک یا ادارے ایسے اقدامات کی حمایت کریں گے یا ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے، انہیں بھی اس کے ممکنہ عالمی اثرات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ان کے مطابق اس نوعیت کی پالیسیاں عالمی مالیاتی نظام میں غیر یقینی صورتحال، قانونی تنازعات اور اقتصادی بے چینی کو جنم دے سکتی ہیں، جس کے اثرات بین الاقوامی تجارت اور عالمی استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں اور دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں ریاستی اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی صورت اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی مالیاتی نظام اور ممالک کے درمیان باہمی اعتماد پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔