خلیج تعاون کونسل (GCC) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کی قومی تیل کمپنی ’ادنوک‘ سے وابستہ دو ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
جاسم محمد البدیوی نے اپنے بیان میں کہا کہ بحری جہازوں، شپنگ تنصیبات اور املاک کو بار بار نشانہ بنانا ناقابل قبول اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں، عملے اور متعلقہ املاک کی سلامتی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو خطرات لاحق ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے اور یہاں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ادنوک کی جانب سے بھی تصدیق
متحدہ عرب امارات کی قومی تیل کمپنی ادنوک نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات 13 اگست کی شام آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اس کے دو بحری جہازوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
کمپنی کے مطابق واقعے میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی جبکہ صورتحال پر قابو پالیا گیا۔
ادنوک نے جہازوں پر موجود عملے کی حفاظت اور بحری راستوں کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ کمپنی نے عوام سے اپیل کی کہ واقعے سے متعلق معلومات صرف سرکاری اور مستند ذرائع سے حاصل کی جائیں اور غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔
خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل نے اپنے تازہ بیان میں کسی ممکنہ جوابی کارروائی کا اعلان نہیں کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بحری جہازوں اور تنصیبات کو بار بار نشانہ بنانا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جس کے ذریعے عالمی منڈیوں تک بڑی مقدار میں تیل اور توانائی کی مصنوعات پہنچتی ہیں۔ موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث اس راستے کی سکیورٹی خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی مارکیٹ کے لیے بھی انتہائی اہم بن چکی ہے۔
