اسلام آباد: طویل وقفے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس آج طلب کر لیے گئے ہیں، جن میں اہم قانون سازی کے علاوہ مکہ امن معاہدے پر متفقہ قرارداد پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اجلاسوں میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بھی تفصیلی بحث ہوگی۔
سینیٹ کا 69 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے، جس کے تحت ایوانِ بالا میں 10 قوانین منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
ایجنڈے میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل، اینٹی ریپ تحقیقات و مقدمہ ترمیمی بل 2026، درآمدات و برآمدات کنٹرول ترمیمی بل اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی ترمیمی بل شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سول سرونٹس ترمیمی بل، سروس ٹربیونلز ترمیمی بل، امیگریشن ایکٹ ترمیمی بل، پاکستان پاسپورٹ ترمیمی بل اور ضابطہ فوجداری میں ترمیم سے متعلق قانون سازی بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کا 42 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کردیا گیا ہے۔ ایوانِ زیریں میں 7 قوانین منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے جبکہ 4 نئے قوانین متعارف کرائے جائیں گے۔
قومی اسمبلی میں اوگرا ترمیمی بل 2026، وفاقی حکومت رئیل اسٹیٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام سے متعلق قانون، ٹریول ایجنسیز ترمیمی بل، پاکستان ٹورسٹ گائیڈز ترمیمی بل، پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس بل اور موشن پکچر ترمیمی بل سمیت دیگر معاملات زیرِ غور آئیں گے۔
نئے قوانین میں ای او بی آئی ترمیمی بل 2026، گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ترمیمی بل، قدرتی گیس ڈویلپمنٹ سرچارجز ترمیمی بل اور محکمہ موسمیات سے متعلق ترمیمی بل شامل ہیں۔
پارلیمانی اجلاسوں میں مکہ امن معاہدے پر متفقہ قرارداد اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث کو بھی اہمیت حاصل رہے گی، جبکہ مختلف قانون سازی پر حکومت اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے اظہارِ خیال متوقع ہے۔
