امریکی محکمہ دفاع نے ایران جنگ میں گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا اعتراف کرلیا
امریکی محکمہ دفاع نے ایک تازہ رپورٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران امریکی گولہ بارود اور اسٹریٹجک ذخائر میں نمایاں کمی کا اعتراف کیا ہے۔
پینٹاگون کے آفس آف انسپکٹر جنرل کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران بڑے پیمانے پر گولہ بارود استعمال ہوا، جس کے نتیجے میں امریکی دفاعی ذخائر پر نمایاں دباؤ پڑا۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے جون کے اختتام تک ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 33.4 ارب ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ جنگی سازوسامان پر خرچ ہوا۔ اس مد میں تقریباً 22.3 ارب ڈالر کی لاگت سامنے آئی۔
امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ کے دوران گولہ بارود کے بڑے پیمانے پر استعمال نے اسٹریٹجک ذخائر کو متاثر کیا، جبکہ دفاعی صنعت میں موجود بعض ساختی رکاوٹوں کے باعث ختم ہونے والے ذخائر کو مطلوبہ رفتار سے دوبارہ بھرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں دفاعی پیداوار اور گولہ بارود کی فراہمی کے نظام میں موجود رکاوٹوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن کے باعث جنگی ضروریات کے مطابق ذخائر کی فوری بحالی ایک چیلنج بن گئی ہے۔
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے گولہ بارود کی پیداوار میں تیزی لانے اور موجودہ کمی کو دور کرنے کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں تاکہ مستقبل کی فوجی ضروریات پوری کرنے کے لیے دفاعی ذخائر کو دوبارہ مستحکم کیا جاسکے۔
رپورٹ کے مندرجات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ کئی ماہ کے دوران جنگی سازوسامان کے بحران اور ذخائر پر د
