امریکا نے برطانیہ میں قائم رائل ایئر فورس فیئر فورڈ بیس سے اپنے بی 52 اور بی ون بمبار طیارے واپس امریکا منتقل کردیے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اڈے پر مبینہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ فیئر فورڈ سے بمبار طیاروں کو امریکا میں ان کے متعلقہ ہوم بیسز پر واپس بھیج دیا گیا ہے، تاہم حساس فوجی نقل و حرکت کے باعث عہدیدار نے نام ظاہر نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی دنوں سے متعدد امریکی بمبار طیارے فیئر فورڈ سے آپریٹ کررہے تھے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف آئندہ اقدامات پر غور کررہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے اور اب فیصلہ ہوگا کہ معاملہ آسان طریقے سے حل ہوتا ہے یا مشکل طریقے سے۔
دوسری جانب برطانوی حکام نے وسطی لندن سے ایک دوہری برطانوی و ایرانی شہریت رکھنے والے شخص کو مبینہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے شبہے میں گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق واقعے سے متعلق مجموعی طور پر 6 افراد کو حراست میں لے کر ضمانت پر رہا کیا جاچکا ہے۔
ایران نے واقعے میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے
