اسلام گڑھ(نامہ نگار)
8 اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز اور تباہ کن زلزلے کے 21 سال مکمل ہونے پر شہدائے زلزلہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں
8 اکتوبر 2005ء کو آنے والا زلزلہ ایک خوفناک اور دہشت ناک زلزلہ تھا، اس زلزلے نے ہزاروں جانوں کو لقمہ اجل بنایا، زلزلے کی خوفناک یادیں آج بھی تازہ ہیں، شہداء زلزلہ کے بلند درجات کے دعا گو ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سیاسی و سماجی اوورسیز رہنما کونسلر افضل خان،سینیئر قانون دان سابق صدر بار میرپور مظفر علی ظفر ایڈووکیٹ،پاکستان مسلم لیگ نون حلقہ ایل اے کھڑی کے رہنما بابو ارشد محمود،صدر پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر بریڈفورڈ راجہ عبدالغفور،صدر استحکام پاکستان سٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب راجہ مزمل افضل،صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس ضلع بھمبر راجہ طاہر اقبال،صدر پاکستان مسلم لیگ ن حلقہ سماہنی ریٹائرڈ صوبیدار راجہ خالد محمود خان،چیئرمین احسن شعیب ایڈووکیٹ،صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس ضلع میرپور چوہدری شوکت علی،پاکستان پیپلز پارٹی اسلام گڑھ کے رہنما راجہ ارسلان طارق،پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما مقصود احمد طاہر،سیاسی و سماجی اوورسیز رہنما نعمان وینس،سیاسی سماجی اوورسیز نوجوان رہنما حماد نجیب،سیاسی وسماجی اوورسیز رہنما چوہدری سرفراز علی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا افضل خان نے کہا ہے کہ 8 اکتوبر 2005ء کا دن تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جسے کشمیری قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔راجہ مزمل افضل نے کہا ہے کہ اس زلزلے نے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے شمالی علاقوں میں بے پناہ تباہی مچائی، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ہزاروں بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوئیں، سڑکیں، اسپتال، اسکول اور مکانات زمین بوس ہو گئے۔بابو ارشد محمود نے کہا ہے کہ اس قدرتی آفت نے پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور عوام نے بھرپور طریقے سے متاثرین کی امداد کی۔ راجہ طاہر اقبال نے کہا ہے کہ آج بھی زلزلہ متاثرین کے دکھ اور تکلیف کی یادیں تازہ ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا جذبہ برقرار رکھنا چاہیے۔ مظفر علی ظفر ایڈوکیٹ نے کہا کہ شہداء زلزلہ کے بلند درجات کیلئے دعا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں۔احسن شعیب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ 8 اکتوبر 2005ء کا سانحہ آزاد کشمیر اور پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش المیہ ہے، جس میں ہزاروں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، خاندان اجڑ گئے، بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں چوہدری شوکت علی نے کہا ہے کہ لوگوں کو ناقابل بیان دکھ اور صدمے سے گزرنا پڑا، شہدائے زلزلہ کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ راجہ ارسلان طارق نے کہا کہ اس المناک سانحے نے ہمیں قدرتی آفات سے نمٹنے، پیشگی حفاظتی اقدامات، مضبوط اور معیاری تعمیرات اور مؤثر ریسکیو و ریلیف نظام کی اہمیت کا احساس دلایا، مشکل کی اس گھڑی میں پوری قوم نے جس یکجہتی، ایثار اور جذبہ انسانیت کا مظاہرہ کیا مقصود احمد طاہر نے کہا ہے کہ 8 اکتوبر کے دن ہمیں شہداء کے لیے فاتحہ خوانی اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کے ساتھ ساتھ اس عزم کی تجدید بھی کرنی چاہیے نعمان وینس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ 8 اکتوبر کے زلزلے میں شہید ہونے والے تمام افراد کے درجات بلند فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے اور آزاد کشمیر سمیت ملک کو ہر قسم کی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ راجہ خالد محمود نے آخر میں کہا کہ 8 اکتوبر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں قدرتی آفات کیلئے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و ہمدردی کا جذبہ قائم رکھنا چاہیے۔ راجہ عبدالغفور نے کہا کہ شہداء زلزلہ کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے بلند درجات کیلئے دعا گو ہیں چوہدری سرفراز علی نے کہا ہے کہ 8 اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز اور تباہ کن زلزلے کے 21 سال مکمل ہونے پر شہدائے زلزلہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں
8 اکتوبر کے زلزلے میں شہید ہونے والے تمام افراد کے درجات بلند فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے اور آزاد کشمیر سمیت ملک کو ہر قسم کی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔
