اسلام آباد: سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات اور خطے کی صورتحال پر اظہار خیال کیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی افواج مختلف شعبوں اور صلاحیتوں کے تحت کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اچانک قائم ہونے والا اتحاد نہیں بلکہ دونوں ممالک کے دیرینہ دفاعی تعاون کا تسلسل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت ہونے والی کارروائیوں اور ان کے ممکنہ نتائج کی نوعیت دفاعی ہوگی۔ کسی بھی دستے کی تعیناتی، اس کی تعداد اور استعمال کے طریقہ کار کا فیصلہ متعلقہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خطے میں سامنے آنے والے نئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں یہ معاہدہ مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق کسی ایک ملک پر حملے کو تمام فریقوں کے خلاف کارروائی تصور کیا جائے گا، جس سے ممکنہ خطرات کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اختلافات کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بنیادی مفاد خطے میں امن و استحکام کا قیام ہے اور جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا تمام فریقوں کے مفاد میں ہے۔
