- پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار
NA-183 کی امیدوار ڈاکٹر راشدہ بھٹو کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) آفس کا دورہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اشرف خان قیصرانی سے اہم ملاقات*
*تونسہ شریف (نمائندہ خصوصی)* پاکستان پیپلز پارٹی کی نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی حلقہ NA-183 *ڈاکٹر راشدہ فرحان بھٹو * نے آج تونسہ شریف میں *بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP)* کے دفتر کا تفصیلی دورہ کیا۔
اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما *ملک فرحان اللہ بھٹو ایڈووکیٹ* بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ڈاکٹر راشدہ بھٹو نے BISP آفس میں *اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر اشرف خان قیصرانی* سے خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی گئی، پروگرام کے طریقہ کار، ادائیگیوں کے نظام اور حقدار خواتین کو درپیش مشکلات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
*ڈاکٹر راشدہ بھٹو نے حلقہ کی غریب اور مستحق خواتین کی شکایات حکام کے سامنے رکھیں۔*
انہوں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو بتایا کہ تونسہ شریف کے دور دراز علاقوں، خاص طور پر کوہ سلیمان کے قبائلی علاقوں کی ہزاروں مستحق خواتین تاحال BISP سے محروم ہیں۔ ان کے اکاؤنٹس بلاک ہیں، سروے میں اندراج نہیں ہو رہا اور کئی خواتین کو کئی ماہ سے قسط نہیں ملی۔
ڈاکٹر راشدہ بھٹو نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے یہ پروگرام غریب عورت کی خود مختاری کے لیے شروع کیا تھا، یہ کوئی خیرات نہیں بلکہ غریب خواتین کا حق ہے۔ اس پروگرام میں کرپشن یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اشرف خان قیصرانی سے پرزور استدعا کی کہ تونسہ شریف میں ہونے والے *تازہ ڈائنامک سروے میں حلقہ NA-183 کے تمام مستحق اور غریب خاندانوں کو لازمی شامل کیا جائے* تاکہ کوئی بھی حقدار خاندان محروم نہ رہے۔
اس موقع پر اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر *اشرف خان قیصرانی* نے ڈاکٹر راشدہ بھٹو کو یقین دہانی کروائی کہ BISP کی ٹیمیں تونسہ بھر میں متحرک ہیں اور تمام مستحق خواتین کو پروگرام میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جن خواتین کو ادائیگی میں مشکلات ہیں، ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔
ملک فرحان اللہ بھٹہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شہید بی بی کا غریب عوام کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے جس کی حفاظت ہم ہر قیمت پر کریں گے۔
آخر میں ڈاکٹر راشدہ بھٹو نے BISP عملے کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ وہ مستقبل میں بھی حقدار خواتین کی آواز بنتی رہیں گی۔
