تربت (ڈسٹرکٹ نیوز) جامعہ تربت کے انسٹیٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر کے تعلیمی پروگراموں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی گائیڈ لائنز کے مطابق نصاب کو بہتر بنانے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات پر غور کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر کا اجلاس ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں نئے داخلوں، تعلیمی پروگراموں میں جدت، نصاب کی بہتری اور آئندہ بورڈ آف اسٹڈیز و فیکلٹی بورڈ کے اجلاسوں کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور نے کہا کہ بلوچی زبان، ادب اور ثقافت کے تحفظ و فروغ کے لیے تعلیمی پروگراموں کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں شعبہ کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے بلوچی زبان و ادب کی ترویج کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
شرکاء نے بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے نصاب کو ایچ ای سی کی ہدایات اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق بہتر بنانے، تعلیمی معیار برقرار رکھنے اور جامعہ تربت کے اسٹریٹجک پلان 2026-2030 کے اہداف حاصل کرنے پر زور دیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ زیر غور تجاویز اور منصوبوں کو حتمی منظوری کے لیے ڈیپارٹمنٹل بورڈ آف اسٹڈیز، فیکلٹی بورڈ اور دیگر متعلقہ آئینی فورمز کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں، سید ہاشمی سال کی مناسبت سے رواں سال نومبر کے آخر میں ایک روزہ قومی سیمینار منعقد کرنے کی بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد بلوچی زبان و ادب کے فروغ اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔
