وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے مثبت کردار ادا کرنے پر آمادہ ہو تو مذاکرات کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے موجودہ طرزِ عمل سے خود تحریک انصاف کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کے موقع پر مصافحہ اور گفتگو کرتے ہیں، جبکہ عمران خان نے اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں اپوزیشن لیڈر سے ٹیلی فونک رابطہ بھی نہیں کیا تھا۔
عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بھی اس صورتِ حال پر دکھ محسوس کرتی ہے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ اور گورنر ہاؤس سے متعلق دیے گئے بیانات کے باعث امن و امان برقرار رکھنے کے لیے نظر بندی کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اگر تحریک انصاف آئینی اور قانونی طریقے سے اپنا کردار ادا کرنے پر رضامند ہو جاتی تو عبوری نظام کی ضرورت پیش نہ آتی، تاہم اب بھی اس معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے خبردار کیا کہ اس خطرے کے خاتمے کے لیے قوم کو متحد ہونا ہوگا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر اور یکساں پالیسی ضروری ہے۔
بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ بھارت افغانستان میں اپنے ٹھکانے قائم کرکے پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پاکستان کو سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
