اسلام آباد: حکومت پاکستان میں غربت کی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامی فلاح و بہبود پر اثرات کا بہتر اندازہ لگانے کے لیے غربت کی پیمائش کے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی پر غور کررہی ہے۔
اس سلسلے میں وزارتِ منصوبہ بندی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ادارے آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (او پی ایچ آئی) کے درمیان مشاورت ہوئی ہے۔ اس دوران کثیرالجہتی غربت اشاریے، یعنی ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس (ایم پی آئی)، کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز زیر بحث آئیں۔
مجوزہ تبدیلیوں کے تحت غربت جانچنے کے لیے صحت، تعلیم اور معیارِ زندگی کے موجودہ اشاریوں کے ساتھ آبادی کا دباؤ، موسمیاتی آفات، عدم تحفظ، نوجوانوں کی محرومیاں، صنفی عدم مساوات، ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی کی کمی، غذائیت کی قلت، بچوں کی نشوونما میں رکاوٹیں اور نقل مکانی جیسے عوامل بھی شامل کرنے کا جائزہ لیا جائے گا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے او پی ایچ آئی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی عدم استحکام، پالیسیوں میں تسلسل کی کمی، معاشی بحرانوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کی ترقی کے سابقہ ثمرات متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غربت میں کمی کے لیے سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری دوبارہ بڑھانے، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور مستند شواہد کی بنیاد پر قومی ترقیاتی ترجیحات طے کرنے کی ضرورت ہے۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق غربت کی پیمائش کے نئے جائزے میں پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈز میژرمنٹ سروے 2026-27 کے اعداد و شمار سے استفادہ کیا جائے گا۔ نئے اشاریوں کو شامل کرنے کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا اور مستند طریقہ کار کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔
وزیر منصوبہ بندی نے غربت میں اضافے کی وجوہات میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، ترقیاتی پالیسیوں میں عدم تسلسل، کورونا وبا اور تباہ کن سیلابوں کو بھی شامل کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار آبادی میں اضافے سے کم رہی تو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، غربت کم کرنے اور محنت کشوں کی نئی نسل کو روزگار فراہم کرنے میں مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
وزارتِ منصوبہ بندی اور او پی ایچ آئی کے مجوزہ تعاون میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابی حلقوں کی سطح پر کثیرالجہتی غربت کا تجزیہ بھی شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے 2023 کی مردم شماری اور مکانات کی گنتی سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس انتخابی حلقوں کی سطح پر غربت کا تجزیہ تیار کرچکا ہے، تاہم حکومت نے اس کے ممکنہ سیاسی اثرات کے باعث اسے عوام کے سامنے لانے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ غربت کی پیمائش میں نئے عوامل شامل کرنے سے محروم طبقات کی بہتر شناخت کس طرح ممکن ہوگی اور ان تک ترقیاتی وسائل پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کیسے یقینی بنائے جاسکیں گے۔
