واشنگٹن: امریکا آبنائے ہرمز میں ایران کے میزائل اور ریڈار نظام کو دوبارہ فعال ہونے سے روکنے کے لیے محدود فوجی کارروائی کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مجوزہ کارروائی کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز میں ایسے فوجی نظام دوبارہ قائم کرنے سے روکنا ہے جو وہاں سے گزرنے والے امریکی اور تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے گزشتہ ہفتے محدود فوجی کارروائی کا منصوبہ تیار کیا تھا، جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اس منصوبے کی حمایت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ نئی جھڑپوں سے قبل تیار کیا گیا تھا اور اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس کی منظوری نہیں دی گئی تھی۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق تازہ فوجی کشیدگی کے بعد صدر ٹرمپ اس آپشن کی منظوری دینے پر غور کرسکتے ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق مجوزہ کارروائی کا بنیادی مقصد ایران کی میزائل اور ریڈار صلاحیتوں کو دوبارہ مضبوط ہونے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں امریکی و تجارتی بحری جہازوں کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
امریکی حکام نے اس حکمت عملی کو محدود اور وقفے وقفے سے کی جانے والی کارروائی قرار دیا ہے، جس کا مقصد ایران کو اپنے فوجی نظام کی دوبارہ تعمیر کا موقع نہ دینا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائل اور دیگر فوجی صلاحیتوں کی بحالی واشنگٹن کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ امریکا کو خدشہ ہے کہ ان نظاموں کو تیل بردار ٹینکروں، امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں اور طیاروں کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے تمام آپشنز موجود ہیں۔ عہدیدار کے مطابق ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکی مؤقف ہے کہ تہران اکثر فیصلوں میں تاخیر کرتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ محدود فوجی کارروائی کا مقصد مکمل جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ آبنائے ہرمز میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو محدود رکھنا اور بحری آمدورفت کو لاحق خطرات کم کرنا ہے۔
تاہم امریکا کی جانب سے کسی نئے حملے کی صورت میں ایران کے جوابی ردعمل کا خدشہ بھی موجود ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔
