دوران سماعت پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے گواہ فتح اللہ برکی سے سوال کیا، آپ کو علیمہ خان کی بیرون ملک غیر قانونی جائیدادیں کے بارے علم ہے۔وکیل صفائی فیصل ملک نے عدالت کو بتایا یہ غیر متعلقہ سوال پے۔
علیمہ خان نے روسٹرم پر آکر عدالت کو بتایا میرا بزنس باہر ہے پراسیکیوشن کو شرم آنی چاہیئے۔ظہیر شاہ نےکہاآپ بتائیں آپ کی دبئی اور نیو جرسی میں غیر قانونی جائیدادیں نہیں نکلیں، علیمہ خان نے کہامیری کوئی غیر قانونی جائیداد نہیں بے نامی جائیداد تھی، ظہیر شاہ نے کہاکیا سپریم کورٹ نے آپ بے نامی جائیدادوں پر جرمانہ نہیں کیا،علیمہ خان نے کہاجج ثاقب نثار نے قانون کے برعکس فیصلہ دیا تھا مجھے ٹربیونل نے کلیئر کردیا تھا، ظہیر شاہ نے کہاکیا آپ نے سپریم کورٹ کے احکامات پر 3 کروڈ روپیہ جرمانہ ادا نہیں کیا،علیمہ خان نے کہاہم نے 2 کروڑ 94 لاکھ روپے جمع کرایا تھا لیکن بعد میں ٹربیونل نے ہمیں کلیئر کیا،آپ کو شرم آنی چاہیئے عدالت میں ایسی باتیں کرتے ہوئے، ظہیر شاہ نےکہاجرم آپ کریں جرمانہ آپ بھریں اور شرم ہم کریں واہ، علیمہ خان نے عدالت بے استداء کی انکا بیان ریکارڈ کریں۔عدالت نے علیمہ خان کا بیان لکھنا شروع کیا تو وکیل صفائی نے اعتراض کیا۔عدالت میں شور شرابے پر جج امجد علی شاہ وکیل صفائی پر سخت برہم ہوئے۔کہاملزمہ بیان ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو کیا میں انکا بیان نہ لوں، جج امجد علی شاہ نے کہایہ عدالت ہے کمرہ عدالت کا ڈیکورم کا خیال کریں، مقدمے کی مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔
