بھارت میں سائبر فراڈ اور مالی جرائم کے نیٹ ورکس کے پھیلاؤ پر تنقید
مودی حکومت کی پالیسیوں، نگرانی کے نظام اور قانون سازی پر سوالات کے درمیان بھارت سے منسلک جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے پھیلاؤ کا معاملہ عالمی سطح پر زیرِ بحث ہے۔
عالمی جریدے دی ٹینیسیئن کے مطابق بھارت میں جعلی کال سینٹرز کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ بھارتی سرزمین سے سرگرم بعض کال سینٹرز امریکی شہریوں کو منظم سائبر فراڈ کے ذریعے مالی نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔
دوسری جانب ویتنامی خبر رساں ادارے وی این ایکسپریس انٹرنیشنل میں شائع رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ کے فارن ایکسچینج کنٹرول قوانین کے تحت بنکاک ایئرپورٹ پر 76 ہزار امریکی ڈالر کی اسمگلنگ کے الزام میں ایک بھارتی مسافر کو گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں اس واقعے کو غیر قانونی طور پر رقم منتقل کرنے کے معاملے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی سکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات مالی جرائم، ڈیجیٹل دھوکا دہی اور منظم جرائم پیشہ سرگرمیوں کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات کو نمایاں کرتے ہیں۔
بھارت میں سائبر فراڈ نیٹ ورکس اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے ان واقعات نے نگرانی اور قانون کے نفاذ کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
