جامعہ تربت: بلوچی زبان و ثقافت کے گریجویٹ و انڈرگریجویٹ پروگرامز کو ایچ ای سی گائیڈلائنز اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ، 
جامعہ تربت کے انسٹیٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر کے ڈیپارٹمنٹل بورڈ آف اسٹڈیز کا پانچواں اجلاس فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگویجز کے ڈین اور انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں انسٹیٹیوٹ اور یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ کالجز کے اساتذہ اور بورڈ کے ارکان نے شرکت کی، جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الرحمان اور یونیورسٹی آف گوادر کے کنٹرولر امتحانات پروفیسر ڈاکٹر رحیم بخش مہر نے بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایچ ڈی، ایم فل اور بی ایس پروگرامز کے نصاب، کورسز اور لرننگ آؤٹ کمز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے نصاب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا کورس شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد بلوچی زبان، ادب اور ثقافت کے فروغ کے ساتھ ساتھ طلباء کو بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں اور ڈیجیٹل دور کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے، تاکہ وہ مارکیٹ میں موثر طور پر مقابلہ کر سکیں۔انہوں نے انسٹیٹیوٹ کی تحقیقی اور تدریسی سرگرمیوں میں معیار کو ہر صورت برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نصاب کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گائیڈلائنز کے مطابق ترتیب دینے اور کورسز و طریقہ تدریس کو جدید تعلیمی رجحانات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اجلاس کے شرکاء نے تدریسی اور تحقیقی سرگرمیوں میں معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی قیمتی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے انسٹیٹیوٹ کی علمی و تحقیقی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسٹیٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر جامعہ تربت کا ایک نمایاں تعلیمی و تحقیقی مرکز ہے، جو بلوچی زبان، ادب اور ثقافت کے تحفظ اور اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔
