اوتھل(رپورٹ/غلام قادر خاصخیلی)جام کمال خان اسپورٹس کمپلیکس کا تعمیراتی منصوبہ کئی سال گزرنے کے باوجود تاحال مکمل نہ ہو سکا، جس کے باعث علاقے کے نوجوان کھیلوں کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اسپورٹس کمپلیکس کی عدم تکمیل کے باعث نوجوان کھلاڑی بجری اور کنکروں سے بھرے گراؤنڈ میں کھیلنے پر مجبور ہیں، جہاں کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھنا ان کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔عوامی حلقوں کے مطابق گراؤنڈ میں بجری اور کنکروں کی موجودگی کے باعث کھیلوں کے دوران متعدد کھلاڑی زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ بعض کھلاڑی چوٹیں لگنے کے باعث کھیلوں کی سرگرمیوں سے بھی دور ہو گئے ہیں۔ کھیلوں کے لیے مناسب اور محفوظ میدان کی عدم دستیابی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔علاقے کے نوجوانوں کو امید تھی کہ جام کمال خان اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر مکمل ہونے سے انہیں کھیلوں کے لیے معیاری میدان اور دیگر ضروری سہولیات میسر آئیں گی، جہاں وہ مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں گے۔ تاہم، منصوبے کی تکمیل میں مسلسل تاخیر کے باعث نوجوانوں کو تاحال مشکلات کا سامنا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسپورٹس کمپلیکس پر کام کبھی شروع ہوتا ہے اور کچھ عرصے بعد دوبارہ بند کر دیا جاتا ہے، جس سے تعمیراتی کام کی رفتار انتہائی سست دکھائی دیتی ہے۔ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کے باعث نہ صرف نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات میسر نہیں آ رہیں بلکہ اس اہم عوامی منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔اوتھل کے عوامی حلقوں نے وفاقی وزیر تجارت نواب جام کمال خان عالیانی، سیکریٹری پارلیمانی امور میر زرین خان مگسی اور صوبائی وزیر کھیل سے مطالبہ کیا ہے کہ جام کمال خان اسپورٹس کمپلیکس گچتہ کی تعمیر میں ہونے والی تاخیر کا نوٹس لیا جائے، منصوبے پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور اس کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔عوامی حلقوں نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ اسپورٹس کمپلیکس کو جلد مکمل کرکے نوجوانوں کے حوالے کیا جائے تاکہ انہیں کھیلوں کے لیے محفوظ اور بہتر ماحول میسر آ سکے اور وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت سرگرمیوں میں بروئے کار لا سکیں۔
