اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے بعد متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کو درپیش مبینہ مشکلات کا معاملہ قومی اسمبلی میں زیرِ بحث آیا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پاکستانیوں کے ویزوں اور سفر سے متعلق مسائل پر حکومت سے وضاحت طلب کی۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کا دوست ملک ہے، تاہم حالیہ صورتحال کے بعد پاکستانی شہریوں کو ویزوں کے اجرا اور تجدید میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پارلیمان کو اس معاملے سے آگاہ رکھا جانا چاہیے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ طویل عرصہ متحدہ عرب امارات میں مقیم رہ چکے ہیں اور وہاں پاکستانیوں کو درپیش صورتحال سے واقف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی ملک میں رہتے ہوئے اسی ملک کے خلاف فریق بنے گا تو اس کے ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ مکہ امن معاہدے سے متعلق ایوان کو بریفنگ دی جائے گی اور حکومت اس حوالے سے تفصیلات پارلیمان کے سامنے رکھے گی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بھی متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کے ساتھ مبینہ نامناسب رویے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمیونٹی نے یو اے ای کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس لیے یہ معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا جانا چاہیے۔
اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بلوچستان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں امن و امان اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے مسائل پر پارلیمان میں تفصیلی بحث کرائی جائے۔
انہوں نے سیاسی اختلافات کے باوجود مذاکرات کو مسائل کے حل کا بہتر راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی معاملات پر بات چیت پارلیمان کے فورم پر ہونی چاہیے۔
