نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے ہیں، اس لیے انہیں کھلا اور محفوظ رہنا چاہیے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی امن کے لیے تعاون کے اصول پر قائم ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ رواں سال خلیج اور مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی سے انسانی جانوں اور معیشتوں کو نقصان پہنچا جبکہ اہم سمندری راستوں پر بھی دباؤ بڑھا۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔ انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ممالک کی امن کوششوں کو بھی سراہا۔
انہوں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔
وزیراعظم نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لیے ہے۔
