راولپنڈی: بیرسٹر دانیال چوہدری کا صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے مسائل نظرانداز کرنے کا الزام
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے باوجود سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے مسائل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے 5 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں کسٹم اہلکاروں کی ہلاکت اور پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ شہدا کے اہل خانہ کے دکھ میں شریک ہونے اور امن و امان کی بہتری کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے جارہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ صوبے میں پولیس کی ضروریات کے مقابلے میں ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پشاور کی خوبصورتی کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ پولیس کو 44 ارب روپے کے مقابلے میں صرف ایک ارب 20 کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کو لانگ مارچ اور دیگر سرگرمیوں کے بجائے عوام کے تحفظ اور شہدا کے خاندانوں کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بعض سیاسی عناصر پر دہشت گردی کے معاملے میں واضح مؤقف اختیار نہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ یہ الزامات بیرسٹر دانیال چوہدری نے اپنی پریس کانفرنس میں عائد کیے۔
