ڈسٹرکٹ نیوز: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ریاست اور خیبرپختونخوا کے درمیان بنیادی مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، ریاست کی پالیسی دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں بلکہ ان کے خلاف مؤثر کارروائی اور مکمل خاتمہ ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے تقریباً 6 ہزار 200 واقعات پیش آئے، جن میں تقریباً 1 ہزار 200 افراد شہید ہوئے، جبکہ رواں سال اب تک 14 خودکش حملے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی 17 ہزار اسامیاں خالی ہیں جبکہ ضم شدہ اضلاع میں سی ٹی ڈی کا نظام مؤثر طور پر فعال نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے چوکیوں کی تعمیر اور سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے 42 ارب روپے طلب کیے، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے صرف 1.2 ارب روپے جاری کیے گئے۔
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی قیادت سے انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر سوالات بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے حکومت کے باوجود دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی
