سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کے بعد امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے سفر سے گریز کرنے یا اپنے سفری منصوبوں پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے پیر کو نئی سفری ہدایات جاری کیں۔ آسٹریلوی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے جانے سے گریز کرنے اور دیگر سعودی ہوائی اڈوں کے سفر پر بھی نظرثانی کرنے کی ہدایت کی۔
نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ نے ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے اور نجران، جازان اور عسیر کے علاقوں کا سفر نہ کرنے، جبکہ سعودی عرب کے دیگر حصوں میں غیرضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔
امریکی سفارت خانے نے ایران اور اس کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو سعودی عرب کے سفر پر نظرثانی کرنے کی ہدایت کی۔ کینیڈا نے بھی ملک کے کسی بھی علاقے کے غیرضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔
جنوبی کوریا نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کو غیرضروری قیام کی صورت میں ملک چھوڑنے اور وہاں جانے کا ارادہ رکھنے والوں کو سفر منسوخ کرنے کی ہدایت کی۔ برطانیہ نے بھی جدہ اور دمام سمیت متعدد مقامات اور مدینہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے علاوہ دیگر ہوائی اڈوں کے سفر سے، ضروری وجوہات کے سوا، گریز کرنے کا مشورہ دیا۔
یہ انتباہات ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے متعدد حملوں کے بعد جاری کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق اتوار کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے، جبکہ اس سے ایک روز قبل اسی ہوائی اڈے پر حملے میں 13 افراد کی ہلاکت اور 300 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
حوثیوں نے اتوار کے حملے سے پہلے سعودی ہوائی اڈوں پر ہونے والے چار حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، تاہم تازہ حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔
حملوں کے بعد ریاض کے شاہ خالد اور دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے بند رہے، جبکہ جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی پروازوں کا نظام متاثر ہوا۔ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اتوار کو جدہ ایئرپورٹ پر 150 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئیں اور 374 پروازوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا
