چاہتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی، قرضوں کے بہتر انتظام اور معاشی استحکام کے لیے اپنی درمیانی مدت کی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
4۔ پاکستان کے لیے خام تیل کی درآمد کے نئے امکانات، لیبیا اور ترکیہ سے تعاون پر بات چیت
ریاض: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب میں منعقدہ 17ویں بین الاقوامی توانائی فورم کے وزارتی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے توانائی کے تحفظ، سستی فراہمی اور اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کی دعوت پر اجلاس میں شریک وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مقامی پیداوار بڑھانے، اسٹریٹجک ذخائر بہتر بنانے اور توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے ذریعے توانائی تحفظ کو مضبوط بنا رہا ہے۔ انہوں نے سعودی سرزمین پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت بھی کی اور جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا۔
اجلاس کے موقع پر علی پرویز ملک نے لیبیا کے وزیر تیل و گیس سے ملاقات کی، جس میں خام تیل کی درآمد اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔ پاکستانی وزیر کے مطابق حکومت نے مقامی ریفائنریز کو لیبیا سے خام تیل درآمد کرنے کی ترغیب دی ہے۔ لیبیا کے وزیر نے پاکستانی کمپنیوں کو تیل کی فراہمی میں معاونت کی یقین دہانی کرائی، جبکہ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے شعبے میں تجربات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے قطری وزیر توانائی سعد الکعبی سے بھی ملاقات کی، جس میں ایل این جی کے شعبے میں تعاون کے امکانات زیرِ بحث آئے۔ ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائراکتار کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کے سمندری علاقوں میں تیل اور گیس کی تلاش پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترک وزیر کے مطابق ترکش پیٹرولیم کا سیسمک جہاز آئندہ ماہ پاکستان پہنچے گا، جہاں وہ انڈس بیسن میں ڈیٹا جمع کرے گا۔
علی پرویز ملک نے توانائی کے شعبے میں تعاون اور متبادل سپلائی ذرائع تلاش کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے سعودی عرب، قطر اور کویت سمیت دوست ممالک کے تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔
