اسلام آباد( عباس جعفر )
عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر ہدایت اللہ خان نے کہا ہے کہ پنجاب اور بلوچستان کے پشتون اکثریتی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں شامل کرکے پشتون صوبہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل پر غور ہو رہا ہے تو تاریخی، جغرافیائی اور آبادی کے تناظر میں ان علاقوں کو بھی زیرِ غور لانا چاہیے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ہدایت اللہ نے 32 صوبوں کی تشکیل سے متعلق مجوزہ ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کی تعداد بڑھانے سے اخراجات کم نہیں بلکہ کئی گنا بڑھیں گے۔ ملک کو اس وقت نئے انتظامی ڈھانچوں کے بجائے موجودہ صوبوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی آبادی زیادہ ہے اور اگر وہاں کے عوام کو انتظامی مسائل درپیش ہیں تو نئے صوبوں کے قیام پر غور کیا جا سکتا ہے۔ بہاولپور اور سرائیکی صوبے کے مطالبات پہلے سے موجود ہیں اور اس حوالے سے اسمبلی سے قرارداد بھی منظور ہو چکی ہے۔
اے این پی رہنما نے کہا کہ خیبر پختونخوا پہلے ہی نسبتاً چھوٹا صوبہ ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے وقت صوبے کے نام کی تبدیلی پر بھی اتفاق رائے ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر نئے صوبوں کی تشکیل کا اصول اپنایا جاتا ہے تو پنجاب اور بلوچستان کے پشتون علاقوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ چمن تک بلوچستان کا پشتون علاقہ اور پنجاب کے میاں والی، اٹک سمیت وہ علاقے جو تاریخی طور پر خیبر پختونخوا سے منسلک رہے ہیں، انہیں خیبر پختونخوا کے ساتھ ملا کر ایک بڑے پشتون صوبے کی تشکیل پر غور کیا جا سکتا ہے۔
سینیٹر ہدایت اللہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا اے این پی 32 صوبوں کی تشکیل سے متعلق ترمیم کی حمایت کرتی ہے تو انہوں نے دوٹوک جواب دیا کہ اے این پی اس ترمیم کی حمایت نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے حق میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ اس سے آمدنی بڑھے گی، اخراجات کم ہوں گے، ترقی آئے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، لیکن ان کے خیال میں نتیجہ اس کے برعکس نکلے گا اور حکومتی اخراجات میں اضافہ ہوگا۔
سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ ملک پہلے ہی سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ خیبر پختونخوا دہشت گردی اور نوجوانوں میں بے روزگاری جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل حل ہونے کے بجائے انتظامی ڈھانچہ مزید وسیع ہوگا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ہر نئے صوبے کے ساتھ نئی اسمبلی، ارکانِ اسمبلی، وزراء اور وزیراعلیٰ کا پورا انتظامی ڈھانچہ قائم ہوگا، جس پر قومی خزانے سے مزید اخراجات ہوں گے۔
اے این پی رہنما نے کہا کہ ملک کو نئے صوبوں کے بجائے مضبوط صوبوں اور بااختیار انتظامی اکائیوں کی ضرورت ہے۔ صوبوں کو ان کے آئینی اختیارات اور اپنے وسائل پر اختیار دیا جائے تاکہ عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور صوبوں کو مائنز اینڈ منرلز سمیت اپنے قدرتی وسائل پر اختیار دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ملک کے مسائل کا حل صوبوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ موجودہ صوبوں کو مضبوط، بااختیار اور وسائل کا مالک بنانا ہے۔
