اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے آن لائن اور الیکٹرانک فراڈ کے مقدمے میں غیر ملکی شہری سمیت تین ملزمان کو مجموعی طور پر سات، سات سال قید اور جرمانے کی سزائیں سنا دیں۔
سینئر سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے چینی شہری بائی شیاؤمنگ، نعمان عابد ملک اور حسنین محمود کو جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی، جبکہ مقدمے میں شامل 9 ملکی و غیر ملکی ملزمان کو عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا۔
عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر زو چنگ لیانگ، شہزادہ ایاز لطیف اور حمزہ شاہنواز کو بری کردیا۔
فیصلے کے مطابق تینوں مجرموں کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 420 کے تحت 5،5 سال قیدِ با مشقت اور 50،50 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔ اس کے علاوہ پیکا ایکٹ 2016 کی دفعہ 14 کے تحت مزید 2،2 سال قید اور 2،2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
عدالت کے مطابق فیس بک پر بارکلیز بینک کے نام سے جعلی اشتہار کے ذریعے اسلام آباد کے شہری حارث احمد شیخ سے ایک کروڑ 93 لاکھ 91 ہزار روپے کا فراڈ کیا گیا۔ ملزمان نے بارکلیز بینک اور اس کے مبینہ چیف ایگزیکٹو ’ول تھامسن‘ کے نام اور لوگو کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرتے ہوئے واٹس ایپ گروپس اور جعلی ایپ کے ذریعے شہری سے رقم حاصل کی۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ فراڈ کے آغاز میں 12 ہزار روپے کی سرمایہ کاری پر 900 روپے منافع دیا گیا، جس کے ذریعے متاثرہ شہری کا اعتماد حاصل کیا گیا۔ بعد ازاں مجرم حسنین محمود کے بینک اکاؤنٹ میں صرف 14 روز کے دوران 25 لاکھ روپے سے زائد کی غیر معمولی رقم منتقل ہوئی اور نکلوائی گئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ نعمان عابد کی کمپنی ’نیو گیٹس ٹیکنالوجیز‘ اور چینی شہری بائی شیاؤمنگ کی کمپنی ’بی ایکس ایم انٹرنیشنل‘ کے اکاؤنٹس کا فراڈ کے لیے استعمال ہونا بھی ریکارڈ سے ثابت ہوا۔
