اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں ہر قسم کے شیشہ کیفے پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کردی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ قواعد و ضوابط بننے تک پہلے سے جاری این او سیز بھی مؤثر نہیں رہیں گے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے انیس صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں وفاقی حکومت کو شیشہ کیفے سے متعلق قواعد فوری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت کے مطابق قواعد کے بغیر ممنوعہ سرگرمیوں کے لیے این او سی جاری کرنا انہیں قانونی حیثیت نہیں دیتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت طویل عرصہ گزرنے کے باوجود شیشہ رولز 2023 کو حتمی شکل نہیں دے سکی، جبکہ 2022 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری حکم پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ عدالت نے چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
فیصلے میں عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ شیشہ نوشی سے نکوٹین، کاربن مونو آکسائیڈ اور کینسر کا باعث بننے والے مضر اجزا جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کے دھوئیں سے قریبی افراد، خصوصاً بچے، بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
عدالت نے متعلقہ حکام کی معاونت کو سراہتے ہوئے شیشہ کیفے سے متعلق تمام درخواستیں ہدایات کے ساتھ نمٹا دیں۔
