اسلام آباد: ہائی کورٹ نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزا یافتہ ایک مجرم کی سزا معطل کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا۔ مجرم کی سزا کے خلاف مرکزی اپیلیں دو ہفتے بعد سماعت کے لیے مقرر کردی گئیں۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس خادم سومرو پر مشتمل بینچ نے سزا معطلی اور مرکزی اپیلوں کی سماعت کی۔ اس موقع پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ توہینِ مذہب کے مقدمے کی سماعت کے دوران انہیں محسوس ہوتا تھا کہ کوئی شخص آئے گا اور انہیں گولی مار کر چلا جائے گا۔
جسٹس اعجاز اسحاق کا کہنا تھا کہ اس ماحول میں بغیر خوف کے جج کی نشست پر بیٹھنا آسان نہیں، خوف کے باعث بعض جج اپیلیں سننے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اکیلے اپیل سن سکتے تو ضرور سنتے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے مزید ریمارکس دیے کہ ریاست منافقت کا مظاہرہ کرتی ہے، اگر وہ جواب دیں گے تو ان کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر کردیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ججوں اور گواہوں کو مناسب تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا اور کئی جج اپنی جانیں بھی گنوا چکے ہیں۔
بینچ کی جانب سے سزا معطلی کا حکم تحریر کرائے جانے کے بعد مقدمے کے مدعی نے اعتراض اٹھایا کہ انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس پر جسٹس اعجاز اسحاق نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور جج کے خلاف شکایت کے لیے قانونی فورم موجود ہے۔
عدالت نے مجرم کی سزا معطل کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا اور مرکزی اپیلوں کی سماعت دو ہفتے بعد مقرر کرکے کارروائی ملتوی کردی۔
