افغان طالبان رجیم میں آزاد صحافت پر پابندیاں برقرار، نام نہاد افغان سپریم لیڈر ہیبت اللہ کو عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت کا قاتل قرار دے دیا۔
افغان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ آزادیٔ صحافت پر قدغنیں لگانے والے 33 عالمی شخصیات کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ عالمی میڈیا واچ ڈاگ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرزکے مطابق قابض افغان طالبان رجیم نے 20 سے زائد حکومتی نوٹیفیکشن اور متعدد صوبائی احکامات کے ذریعے افغان میڈیا کو سخت گیرپابندیوں میں جکڑ دیا ہے۔ افغان طالبان رجیم کی بدترین پابندیوں میں رجیم پر تنقید، خواتین کے حقوق، سیاسی بحث اور جانداروں کی تصاویر نشر کرنے پر پابندیاں شامل ہیں۔ طالبان رجیم کی بدترین پابندیوں کے باعث افغانستان آزادیٔ صحافت کے عالمی انڈیکس میں 180 ممالک میں 175ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ اگست 2021 سے اب تک طالبان رجیم 74 سے زائد میڈیا کارکنوں کو گرفتار کر چکی ہے، رواں سال بھی چھ صحافی حراست میں لیے گئے ہیں۔ جنوری 2026 کے نئے ضابطۂ فوجداری کے تحت طالبان رہنماؤں کی توہین پر قید اور کوڑوں کی سزا مقرر، اختلافِ رائے بھی جرم بنا دیا گیا۔
