ایمان مزاری کی فیملی کی جانب سے اہم بیان جاری ہواہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ 23 جنوری 2026 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں ، مزاری فیملی کاکہناتھاسزا کے خلاف ان کی سزا معطلی درخواستیں ابھی تک اسلام آباد ہائی کورٹ میں نہیں سنی گئیں ،اس دوران ہم جیل میں ہفتہ وار ملاقاتوں سے مطمئن تھے لیکن ہم یہ بیان جاری کرنے پر مجبور ہیں ، گزشتہ تین ہفتوں سے ایمان مزاری کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے جس سے جیل میں موجود طبی سہولیات پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں ، مزاری فیملی کاکہناتھاایمان مزاری نے سب سے پہلے مسوڑوں سے شدید خون بہنے کی شکایت کی لیکن جیل میں کوئی ڈینٹسٹ دستیاب نہیں تھا ، مزاری فیملی نےکہاہم نے اپنے ڈینٹسٹ سے مشورے کے بعد اس کے لیے دوا بھجوائی لیکن تمام دوا اس تک نہیں پہنچ سکی ، مزاری فیملی نے کہااگلے ہفتے اسے معدے کے مسائل تھے اور طبی لحاظ سے پھر بھی توجہ نہیں دی گئی ، بدترین بات یہ ہے Zedron نامی دوا جو بنیادی طور پر کینسر کے مریضوں کے لیے ہے اس پر واضح لکھا ہے اسے بچے پیدا کرنے کی عمر کی خواتین کو نہیں دیا جانا چاہیے وہ اسے دے دی دی گئی ، مزاری فیملی نے کہاگزشتہ ایک ہفتے سے ایمان کو سینے کا انفیکشن ہے جو انتہائی تشویشناک ہے ، مزاری فیملی نےکہاایمان مزاری کا بلڈ ٹیسٹ کیا گیا جس سے انفیکشن ظاہر ہوا اس لئے اس کا سینے کا ایکسرے کروانا ضروری ہے ، مزاری فیملی نے کہاجیل حکام نے ابھی تک سینے کا ایکسرے نہیں کروایا تاکہ انفیکشن کی وجہ معلوم کی جا سکے ،ہماری تشویش اور بھی بڑھ گئی ہے کہ اڈیالہ جیل کے خواتین وارڈ میں جن قیدیوں کو متعدی بیماریوں کی تشخیص ہوئی ہے انہیں الگ نہیں رکھا جاتا ، مزاری فیملی نےکہاوہ خواتین دیگر قیدیوں کے ساتھ ساتھ بھی ملتی جلتی ہیں خواتین کے لیے طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کی دستیابی بھی انتہائی ناقص ہے، یہ جیل کے اندر ناکافی طبی سہولیات ہیں قیدیوں کی فلاح و بہبود ریاست کی ذمہ داری ہے جسے ہلکا نہیں لینا چاہیے ، مزاری فیملی نے کہاہم یہ بھی دہرانا چاہیں گے کہ اگر ان کی سزا معطلی کی درخواستیں بروقت سنی جائیں تو ان تمام صحت کے مسائل سے بچا جا سکتا ہے، مزاری فیملی نے کہاجیل حکام اور حکومت مطالبہ کرتے ہیں ایمان مزاری کا سینے کا ایکسرے جلد از جلد کروایا جائے ، تمام خواتین قیدیوں کو مناسب طبی سہولیات بشمول ڈینٹل کیئر فراہم کی جائیں ،متعدی بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کو عزت کے ساتھ الگ/قرنطینہ کیا جائے تاکہ دیگر قیدیوں کو محفوظ رکھا جا سکے،تمام قیدیوں کو اسپیشلسٹ ڈاکٹرز اور متعلقہ ادویات تک رسائی دی جائے ،حکومت 8 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقرر ایمان اور ہادی کی سزا معطلی کی درخواستوں کی مخالفت نہ کرے ۔
