تہران: ایران نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں اہم تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے پاسداران انقلاب کی عسکری صلاحیتوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاسداران انقلاب کے سینیئر مشیر بریگیڈیئر جنرل رضا نقدی نے کہا کہ نئے فوجی ڈاکٹرائن کے تحت پاسداران انقلاب کو ایسی صلاحیت حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ ضرورت پڑنے پر کارروائی صرف ایرانی حدود تک محدود نہ رہے۔
رضا نقدی کے مطابق ایرانی عسکری حکمتِ عملی میں ایسی استعداد پیدا کرنا بنیادی اہمیت رکھتی ہے جس کے ذریعے کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں مخالف کے علاقے تک کارروائی کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
انہوں نے کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ پاسداران انقلاب کو نئے ڈاکٹرائن کے مطابق مکمل تیاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ایران اپنی فوجی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرسکے۔
ایرانی عہدیدار نے امریکا کے دفاعی بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کا فوجی بجٹ ایران کے دفاعی بجٹ سے تقریباً 100 گنا زیادہ ہے۔
رضا نقدی نے مزید دعویٰ کیا کہ حالیہ تنازع کے دوران مخالف کی جانب سے نشانہ بنائے گئے ایران سے متعلق 14 اہداف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
ان کے مطابق نئے فوجی ڈاکٹرائن کا مقصد ایران کی دفاعی پوزیشن کو اس انداز میں مضبوط بنانا ہے کہ ملک صرف اپنی سرحدوں کے دفاع تک محدود نہ رہے بلکہ کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں مخالف کے علاقے میں بھی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ایرانی عہدیدار کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور مشرق وسطیٰ میں کسی بھی نئی فوجی پیش رفت کے ممکنہ اثرات پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
