امریکا کا ایران پر دباؤ جاری رکھنے کا اعلان، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا عندیہ
نیویارک: اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے مائیک والٹز نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پُرعزم ہیں اور واشنگٹن اس مقصد کے لیے تہران پر دباؤ برقرار رکھے گا۔
الجزیرہ کے مطابق مائیک والٹز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا راستہ اب بھی موجود ہے، تاہم تہران کو مذاکرات میں سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ واپس آنا ہوگا۔
نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نمائندے نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کو کئی دہائیوں سے چلے آنے والے تنازع کا تسلسل قرار دیا۔
مائیک والٹز نے کہا کہ ایران کو جوہری صلاحیت کے ذریعے آبنائے ہرمز سمیت عالمی سطح پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب ایران مسلسل جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششوں کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
واضح رہے کہ 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا تھا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران 2018 میں امریکا کو اس معاہدے سے الگ کرلیا تھا۔
حالیہ صورتحال میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا معاملہ تعطل کا شکار ہے، تاہم ایران نے قطر کے ذریعے امریکا تک جنگ کے خاتمے اور مذاکرات سے متعلق اپنی شرائط پہنچانے کی تصدیق کی ہے۔
