بلوچستان کے مسائل کا حل الگ الگ حکمت عملی میں ہے، سینیٹر بلال احمد مندوخیل
*************
بلوچستان کو ایک نظر سے دیکھنا مسئلے کا حل نہیں، بلوچ اور پشتون علاقوں کے مسائل الگ ہیں ، صوبےکے حالات انتہائی سنجیدہ، جائز مطالبات مان کر مسائل کم کیے جا سکتے ہیں:
**********
دہشت گردی اور علیحدگی پسند تحریک کو الگ کرنا ہوگا، دونوں کے لیے مختلف حکمت عملی ضروری ہے، بلوچستان کے کوٹے پر غیر متعلقہ افراد کی موجودگی کی تحقیقات ہونی چاہئیں ،
*****************
اسلام آباد (رپورٹ: عباس جعفر، ڈسٹرکٹ نیوز) سینیٹر بلال احمد مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت انتہائی سنجیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اور صوبے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بلوچ اور پشتون علاقوں کے حالات اور مسائل کو الگ الگ تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
ایک انٹرویو میں سینیٹر بلال احمد مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان بنیادی طور پر بلوچ اور پشتون آبادیوں پر مشتمل صوبہ ہے، تاہم دونوں علاقوں میں مسائل اور چیلنجز کی نوعیت مختلف ہے۔ بلوچ بیلٹ میں گزشتہ دو، تین دہائیوں کے دوران جاری رہنے والے مطالبات اب انتہائی مرحلے تک پہنچ چکے ہیں اور بعض عناصر علیحدگی کی تحریک تک جا پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب پشتون بیلٹ میں دہشت گردی ایک بڑا مسئلہ ہے، اس لیے دہشت گردی اور علیحدگی پسند تحریک کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کے بجائے دونوں کے محرکات اور مسائل کو الگ الگ سمجھنا ہوگا۔
سینیٹر بلال احمد مندوخیل کے مطابق اگر حکومت دونوں علاقوں کے مسائل کو الگ الگ ایڈریس کرے اور زمینی حقائق کے مطابق حکمت عملی بنائے تو حالات پر قابو پانا اور مسائل کا حل تلاش کرنا آسان ہوسکتا ہے۔ پورے بلوچستان کو ایک ہی زاویے سے دیکھ کر تمام مسائل کا یکساں حل تلاش کرنا مؤثر حکمت عملی نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اتنے طویل عرصے سے جاری مسائل کے حل میں بھی وقت لگے گا، کیونکہ کسی مسئلے کو بگاڑنے میں جتنا وقت لگتا ہے، اسے درست کرنے کے لیے اس سے زیادہ وقت درکار ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر حکومت درست سمت میں پہلا قدم اٹھائے اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش شروع کرے تو معاملات خوش اسلوبی سے حل کیے جاسکتے ہیں۔
سینیٹر بلال احمد مندوخیل نے کہا کہ جو مطالبات جائز اور قابلِ قبول ہیں انہیں تسلیم کیا جانا چاہیے، جبکہ ناقابلِ قبول مطالبات کے معاملے میں ریاست اپنی آئینی اور قانونی پوزیشن برقرار رکھ سکتی ہے۔ جائز مطالبات تسلیم کرکے حکومت اپنے لیے مسائل کم اور عوام کا اعتماد بحال کرسکتی ہے۔
وفاق میں بلوچستان کی نمائندگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وفاقی بیوروکریسی اور دیگر اداروں میں بلوچستان کے مقررہ کوٹے کا عملی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سینیٹ میں اس معاملے پر سوال بھی اٹھایا گیا تھا اور کاغذی طور پر حکام کی جانب سے بلوچستان کے کوٹے کے حوالے سے اطمینان بخش جواب دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ بلوچستان کے کوٹے پر عملی طور پر کون لوگ تعینات ہیں اور کیا تمام تقرریاں حقیقی ڈومیسائل کی بنیاد پر ہوئی ہیں۔ بلوچستان کے ڈومیسائل کے مبینہ غلط استعمال کی شکایات بھی موجود ہیں، اس لیے ڈومیسائل کی شفاف جانچ پڑتال کی جائے تو کئی حقائق سامنے آسکتے ہیں۔
سینیٹر بلال احمد مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو قومی اداروں میں مؤثر نمائندگی دینا اور ان کے جائز مسائل کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ سیاسی، انتظامی اور آئینی راستوں سے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور مسلسل اقدامات کرے۔
رپورٹ: عباس جعفر— ڈسٹرکٹ نیوز
