اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کی بندش سے متعلق درخواست پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 نومبر تک ملتوی کردی۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے غلام مرتضیٰ کی درخواست پر سماعت کی۔ بیرسٹر گوہر علی خان عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے، جہاں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کے مذکورہ ایکس اکاؤنٹ کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرتی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت سے استدعا کی کہ موجودہ حالات تبدیل ہوچکے ہیں، اس لیے انہیں تفصیلی جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بعض مشتبہ اکاؤنٹس سے تحریک انصاف کا کوئی تعلق نہیں ہے اور 23 نومبر کے بعد اس معاملے پر جواب جمع کرایا جائے گا۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور جمہوریت کے منافی اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بیوروکریسی کی تبدیلی اور سیاسی جماعت کے خلاف اقدامات تشویش ناک ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ 11 اکتوبر کے بعد پارٹی کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے رابطہ نہیں ہوسکا اور نہ ہی اراکین صوبائی اسمبلی اور اسپیکر سے رابطہ ہو رہا ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اور ڈیڈ لاک کے باوجود بات چیت کا عمل ختم نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان بات چیت روکنے کا فیصلہ کس نے کیا اور اس کی وجہ کیا تھی۔
