راولپنڈی: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف مذاکرات کی دعوت کافی نہیں، حکومت کو عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔
اڈیالہ روڈ پر سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کی پیشکش کئی مرتبہ کی گئی لیکن اب تک کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہونے دی جارہی، حالانکہ پارٹی نے ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی بہنوں اور کزن قاسم زمان کی گرفتاری کی بھی مذمت کی۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی گرفتاریوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اپوزیشن نے ماضی میں حکومت کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکرات کیے لیکن حکومتی سطح پر مطلوبہ سنجیدگی اور کشادہ دلی نظر نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر پی ٹی آئی کا مؤقف واضح ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہونا چاہیے۔ بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو لانگ مارچ روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے اقدامات سے سیاسی کشیدگی اور نفرتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
