پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری، یاسمین راشد اور سرفراز چیمہ نے جیل سے اپنے وکیل کے ذریعے میڈیا کو ایک خط پہنچایا ہے، جس میں حکومت کی پالیسیوں اور ملک کی مجموعی صورتحال پر شدید تنقید کی گئی ہے۔
خط میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے مہنگائی، صحت، تعلیم، زراعت اور امن و امان سمیت مختلف شعبوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
رہنماؤں نے صحت کے شعبے کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بچوں میں غذائی قلت، طبی سہولیات کی کمی اور سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی جیسے مسائل عوامی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
خط میں پنجاب حکومت کے اخراجات اور حکومتی طرزِ زندگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے پنجاب کی وزیراعلیٰ کے لیے طیارے کی خریداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام اس اخراجات کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں۔
تعلیم کے حوالے سے خط میں دعویٰ کیا گیا کہ بڑی تعداد میں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ رہنماؤں نے زرعی شعبے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو درپیش مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔
امن و امان کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات پر تشویش ظاہر کی اور خط میں سینیٹ کمیٹی کی ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا۔ تاہم خط میں شامل اعداد و شمار اور دیگر دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق الگ معاملہ ہے۔
خط میں خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ مبینہ سلوک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ اس طرزِ عمل سے صوبے میں احساسِ محرومی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے خط کے اختتام پر موجودہ حالات پر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘، جبکہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک کو اس مشکل صورتحال سے نکلنے میں مدد دے۔
