امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے نام پر اعلانات کے بجائے پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور پالیسی ریٹ میں کمی لائی جائے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کرے گی، جبکہ مختلف شہروں میں جاری دھرنے بھی جاری رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1567 ارب روپے وصول کیے، جبکہ بلند شرح سود کے باعث ملک میں قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ رہا ہے۔
حافظ نعیم نے الزام عائد کیا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی حکومت کو پالیسی ریٹ میں تین فیصد کمی اور لیوی کم کرنے کے حوالے سے تجاویز دے چکی ہے۔
انہوں نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں تو حکومت کو عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنے محصولات کم کرنے چاہییں۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت کے اعلان کردہ ریلیف پیکیج کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام کو عملی ریلیف دینے کے بجائے تشہیری مہم پر رقم خرچ کی جارہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت کو عارضی اور نمائشی اقدامات کے بجائے مہنگائی اور عوامی مشکلات کے مستقل حل پر توجہ دینی چاہیے۔
