خیبرپختونخوا میں دہشتگردی، غیر قانونی سرگرمیوں اور کرائم ٹیرر نیکسس پر سوالات
پشاور: خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں غیر قانونی سرگرمیوں، جرائم اور دہشتگردی کے مبینہ تعلق نے صوبے میں امن و امان اور حکمرانی کے حوالے سے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صوبے میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے ساتھ غیر قانونی اسپیکٹرم، منشیات، اسمگلنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات بھی زیر بحث ہیں۔ متعلقہ حلقوں کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف بریفنگز میں بھی دہشتگردی کے مستقل خاتمے کے لیے منشیات، اسمگلنگ، غیر قانونی سرگرمیوں اور دہشتگرد عناصر کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی کے ساتھ بہتر گورننس اور سیاسی حمایت کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی خیبرپختونخوا میں غیر قانونی سرگرمیوں کے معاملے پر صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
رپورٹ میں وادی تیراہ کو جرائم اور دہشتگردی کے ممکنہ تعلق کے حوالے سے ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تیراہ اور خیبر کے بعض علاقوں میں تقریباً 12 ہزار ایکڑ رقبے پر منشیات کی کاشت کی جاتی ہے، جبکہ اس سرگرمی سے حاصل ہونے والی آمدن کا ایک حصہ دہشتگرد عناصر تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 کے دوران دو ہفتوں میں کسٹمز حکام نے ایک ارب 16 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان اور گاڑیاں ضبط کیں۔ دوسری جانب 2026 کی پہلی سہ ماہی میں خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے 5 ہزار 695 کلوگرام چرس، 847 کلوگرام آئس، 210 کلوگرام ہیروئن اور 275 کلوگرام افیون برآمد کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں، منشیات اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، جبکہ ان شعبوں میں مؤثر اقدامات نہ ہونے کے حوالے سے صوبائی حکومت کی گورننس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
