اسلام آباد( ڈسٹرکٹ نیوز )
بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاہم پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا میں اس الزام کو مسترد کرتا ہوں۔ بیرسٹر گوہر نے کہافیصلہ کرلو کیا ہم دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہے ہیں وزیراعظم صاحب آپ نے ہمیں زخم دیا ہے، ہم ایسے بیانات پر لعنت بھیجتے ہیں بین الاقوامی سطح پر اس بیان کے اثرات ہوں گے پاک فوج ہماری ہے ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے آپ کے وفاق کو داؤ پر لگا دیا ہے ہم دہشتگردی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہیں ایک ملاقات کے ڈر سے پوری حکومت ختم کردی بیرسٹر گوہر کاکہناتھا اگر ہم دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں تو ہمیں پھانسی دے دو اگر ہم اس ملک کے نہیں ہیں تو آج بتا دیں، ہماری نسلیں تمہیں معافی مانگنے پر مجبور کریں گی ہم سب کچھ ہوسکتے ہیں بیرسٹر گوہر نے کہادہشت گردی کی پشت پناہی نہیں کر سکتے جتنا جلدی الزام واپس لیں وہ بہتر ہے ہم آپ کے ایمرجنسی، گورنر راج اور فوج بلانے کو مسترد کرتے ہیں ہم وہ پاکستان بنائیں گے جس میں آپ کا علاج ہوگا۔اپوزیشن کے وفد نے مذاکرات سے اٹھنے کے بعد کہا کہ لانگ مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا،سپیکر قومی اسمبلی نے وضاحت دیتے ہوئے کہاماضی کی باتوں میں جانے کا فائدہ نہیں، آگے چلیں۔
