راولپنڈی: محکمہ جیل خانہ جات کے ملازم کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزم کے پولیس حراست سے فرار ہونے کے معاملے پر تھانہ مندرہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ، تعزیراتِ پاکستان اور پولیس آرڈر کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مقدمے کے مطابق گرفتار ملزم ملک حماد کو عدالت میں پیشی کے بعد جہلم جیل منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم مبینہ طور پر بعض پولیس اہلکاروں نے ملزم سے ساز باز کرکے اسے مندرہ کے قریب ایک ہوٹل میں روک لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق کچھ دیر بعد ملزم کے تین ساتھی بھی وہاں پہنچ گئے۔ الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں اور ملزم کے درمیان مل کر اس کے مخالفین کو قتل کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی کی گئی، جس کے بعد ملزم کو سرکاری گاڑی کے بجائے ایک نجی گاڑی میں منتقل کیا گیا۔
واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب سرکاری گاڑی کے ڈرائیور نے ہوٹل میں موجود سادہ لباس اہلکاروں کو مبینہ منصوبہ بندی سے آگاہ کیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تو ملزم ملک حماد اور اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے دوران دو گولیاں پولیس وین کو لگیں، جبکہ ایک گولی پولیس کانسٹیبل کو لگی، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اہلکار محفوظ رہا۔
فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔ پولیس نے مبینہ طور پر فرار ہونے والے ملزمان کی معاونت کرنے کے الزام میں اے ایس آئی توقیر، کانسٹیبل محبوب خان، قاسم بشیر اور ان کے ساتھی دانیال کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم دانیال کے قبضے سے ایک کلاشنکوف بھی برآمد ہوئی ہے۔
واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ پولیس حراست میں موجود ملزم کے فرار، مبینہ پولیس ملی بھگت اور فائرنگ کے واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کی جارہی ہیں
