**************
راولپنڈی (ڈسٹرکٹ نیوز) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی، انہیں آئین اور قانون کے مطابق ہتھیار ڈالنا ہوں گے، بصورت دیگر سیکیورٹی فورسز فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے خلاف ملک بھر میں 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 2,084 مصدقہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان کے مطابق فورسز نے اوسطاً روزانہ 194 آپریشنز کیے جبکہ روزانہ تقریباً 10 دہشت گرد مارے گئے۔ کارروائیوں کے دوران 819 سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 28 خودکش حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ٹانک اور کراچی میں ہونے والے بعض دہشت گرد حملوں میں افغان شہری ملوث پائے گئے، جبکہ ان کا الزام تھا کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کی معاونت کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے منظم انداز میں منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان کے عوام ترقی چاہتے ہیں، تاہم بعض بااثر عناصر اور سردار صوبے میں تعلیم اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں، اسی لیے ریاست براہِ راست عوام کے مسائل کے حل پر توجہ دے گی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ریاست کی مضبوطی آئین و قانون کی بالادستی سے وابستہ ہے اور آئین کے آرٹیکل 5 کے مطابق ریاست سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقوق کے ساتھ فرائض بھی لازم ہیں اور ہر پاکستانی کی پہلی شناخت پاکستان ہونی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ گوادر میں پاک چین دوستی اسپتال، دیہی مراکز صحت، بچوں کی ڈسپنسریاں اور صنعتی فری زون سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، جبکہ 1947ء کے مقابلے میں بلوچستان میں تعلیمی، طبی اور انفراسٹرکچر کی سہولیات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مسنگ پرسنز کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حکومتی کمیشن کو مجموعی طور پر 10,901 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 9,372 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص لاپتا ہے تو اس کی شناخت اور متعلقہ معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام ریاستی ادارے آئین و قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
