اسلام آباد:(عبدالوہاب خان، نیوز ڈیسک)
ڈی-8 آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن کے سیکرٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے کہا ہے کہ مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) رکن ممالک کی معیشتوں کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع، جدت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گرین اکانومی اور میڈیکل ٹورازم کے شعبوں میں موجود نئے مواقع سے ایس ایم ایز کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار اور جامع ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
ڈی-8 کی جانب سے عالمی یومِ ایس ایم ایز کے موقع پر “گرین ایس ایم ایز اور میڈیکل ٹورازم: ایس ایم ای ترقی کے مواقع” کے عنوان سے ایک خصوصی ویبینار منعقد کیا گیا، جس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے سفیر سہیل محمود نے کہا کہ ماحول دوست معیشت کی جانب منتقلی سے ایس ایم ایز کی پیداواری صلاحیت، مسابقت، وسائل کے مؤثر استعمال، معیاری روزگار اور پائیدار سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
سفیر سہیل محمود نے کہا کہ گرین انٹرپرینیورشپ اور میڈیکل ٹورازم ایسے ابھرتے ہوئے شعبے ہیں جو ایس ایم ایز کو علاقائی اور عالمی ویلیو چینز سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ملائیشیا کی ایس ایم ای کارپوریشن اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈی-8 عملی تعاون، استعداد کار میں اضافے اور مالی معاونت کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

ویبینار میں ملائیشیا، ترکیہ، آذربائیجان، بنگلہ دیش سمیت ڈی-8 کے مختلف رکن ممالک کے ماہرین نے گرین انڈسٹری، سرکلر اکانومی، مصنوعی ذہانت پر مبنی انوینٹری مینجمنٹ، پائیدار سپلائی چینز اور میڈیکل ٹورازم کے کامیاب ماڈلز پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گرین معیشت اور صحت کے شعبے میں سیاحت ایس ایم ایز کے لیے نئی کاروباری راہیں کھول سکتی ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں سفیر سہیل محمود نے کہا کہ اگرچہ ایس ایم ایز کو مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی، سرٹیفکیشن اور تکنیکی مہارت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم مضبوط علاقائی تعاون، علم کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے ان رکاوٹوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی-8 تنظیم اپنے رکن ممالک کے درمیان شراکت داری، جدت، گرین کاروباری سرگرمیوں اور میڈیکل ٹورازم کے فروغ کے ذریعے مضبوط، پائیدار اور عالمی سطح پر مسابقتی ایس ایم ایز کی تشکیل کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔
ویبینار میں ڈی-8 کے رکن ممالک کے سرکاری اداروں، وزارتوں، چیمبرز آف کامرس، کاروباری تنظیموں اور متعلقہ شعبوں کے 40 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی اور ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔