ایران پر نیا حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیں گے، عباس عراقچی کا بیان
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کے امکان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔
عباس عراقچی کے مطابق خطے میں کسی ملک کے ساتھ جنگ شروع ہونے کی صورت میں پائیدار امن قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی سلامتی کے خلاف کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی گئی تو ایسا ردعمل سامنے آسکتا ہے جس کی مخالف قوتوں نے توقع نہ کی ہو۔
قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران ایک خودمختار اور مضبوط علاقائی طاقت ہے اور اس کے مستقبل کے فیصلے ایرانی عوام خود کریں گے، بیرونی طاقتیں نہیں۔
انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ دھمکیوں کا سلسلہ ختم کرے، اپنا طرزِ عمل تبدیل کرے اور اپنے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں ممکنہ کشیدگی کے حوالے سے سخت مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، کسی نئے فوجی تصادم کے امکانات اور آئندہ پیش رفت کے بارے میں صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔
