“پاکستان میں مالیاتی وفاقیت: قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ کا تجزیہ”.
تحریر ؛ ساروان ناصر
قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ پاکستان کا ایک آئینی نظام ہے جس کے تحت قومی ٹیکس آمدنی کو وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ نظام 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت قائم کیا گیا ھے تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور صوبوں کی مالی خودمختاری کو یقینی بنایا جا سکے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 160 صدرِ پاکستان کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کی سفارشات کی بنیاد پر وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کے لیے ایک حکم نامہ جاری کریں، جسے NFC ایوارڈ کہا جاتا ہے۔ اسی آرٹیکل کی شق 3 (ب) کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ اور صوبائی وزرائے خزانہ ایوارڈ کے نفاذ کا ہر چھ ماہ بعد جائزہ لینے اور اپنی رپورٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور صوبائی اسمبلیوں میں پیش کرنے کے پابند ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی جانب سے 2011ء میں شائع ہونے والے ڈاکٹر عثمان مصطفیٰ کے تحقیقی مقالوں کے مطابق پہلا NFC ایوارڈ 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے پیش کیا تھا۔ اس ایوارڈ میں وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی عمودی تقسیم 20:80 کے تناسب سے کی گئی جبکہ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا واحد معیار آبادی مقرر کیا گیا۔ اس فارمولے کے تحت پنجاب کو 60.25 فیصد حصہ ملا جبکہ دیگر صوبوں کو نسبتاً کم حصہ دیا گیا۔ سندھ کا حصہ 22.50 فیصد، خیبر پختونخوا کا 13.39 فیصد اور بلوچستان کا محض 3.86 فیصد تھا۔ 1979ء کے ایوارڈ میں بھی یہی فارمولا برقرار رکھا گیا۔ بعد ازاں 1996ء اور 2006ء کے ایوارڈز میں صوبوں اور وفاق کے درمیان قابلِ تقسیم محاصل (Divisible Pool) کی تقسیم بالترتیب 62.5:37.5 اور 45:55 کے تناسب سے کی گئی، تاہم صوبوں کے درمیان تقسیم کے لیے آبادی ہی واحد پیمانہ رہی۔
این ایف سی یوارڈ کے بنیادی مقاصد یہ ھیں؛ (1)وفاق کی جانب سے صوبوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا جائزہ لینا۔ (2) وسائل کی وفاق اور صوبوں کے درمیان عمودی اور صوبوں کے مابین افقی تقسیم کو منظم کرنا۔ (3)وفاق سے صوبوں کو منصفانہ اور متوازن مالی منتقلی کو یقینی بنانا تاکہ تمام وفاقی اکائیوں کی ترقی اور خوشحالی ممکن ہو سکے۔ تاریخی طور پر وسائل کی تقسیم صرف آبادی کی بنیاد پر کی جاتی رہی، تاہم 30 دسمبر 2009ء کو گوادر میں دستخط ہونے والا ساتواں NFC ایوارڈ، جو 2010ء میں نافذ ہوا، ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوا۔ اس ایوارڈ میں علاقائی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے نئے اشاریے شامل کیے گئے۔ موجودہ فارمولے کے مطابق صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے 04 عوامل کو وزن دیا گیا ھے۔ جن میں پہلا آبادی (82 فیصد)، دوسرا غربت اور پسماندگی (10.3 فیصد)، تیسرا انورس پاپولیشن ڈینسٹی (وسیع رقبہ اور منتشر آبادی) 2.7 فیصد اور چوتھا محصولات کی وصولی اور پیداوار (5 فیصد). اسی طرح 2009ء کے NFC ایوارڈ کے مطابق قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ 56 فیصد جبکہ وفاق کا حصہ 44 فیصد مقرر کیا گیا، جو بعد ازاں 42.5:57.5 کے تناسب تک پہنچ گیا۔
ساتویں NFC ایوارڈ میں تین نئے اشاریوں کی شمولیت سے بلوچستان کو نمایاں فائدہ پہنچا۔ 1974ء، 1979ء، 1990ء اور 2006ء کے ایوارڈز کے مقابلے میں بلوچستان کا حصہ بڑھ کر 9.09 فیصد تک پہنچ گیا۔ غربت و پسماندگی کے لیے 10.3 فیصد اور اِنورس پاپولیشن ڈینسٹی کے لیے 2.7 فیصد وزن نے بلوچستان کو خصوصی فائدہ پہنچایا کیونکہ یہ صوبہ وسیع رقبے اور منتشر آبادی کا حامل ہے۔ تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ صوبے کو ملنے والے اضافی وسائل کے فوائد عام عوام تک مؤثر انداز میں منتقل نہیں ہو سکے۔ ’’پاکستان NFC ایوارڈ 2009ء اور عوامی تاثرات‘‘ کے عنوان سے مسرت کرامت علی اور ڈاکٹر امانت علی جلبانی کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کا سماجی ڈھانچہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ تر قبائلی نوعیت کا ہے۔ غیر مؤثر زرعی اصلاحات اور روایتی قبائلی سرداروں کا اثر و رسوخ عام لوگوں کی زندگیوں پر غالب ہے۔ عوامی تاثر یہ ہے کہ یہ بااثر طبقات نہ صرف عام لوگوں کو دبائے رکھتے ہیں بلکہ ترقیاتی سرگرمیوں کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں تعلیمی اداروں کا قیام، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، صحت کی سہولیات، صاف پانی کی فراہمی، نئے آبی ذخائر کی تلاش اور معدنی وسائل کی ترقی شامل ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے دیے جانے والے مالی پیکجز اور فنڈز بھی عوامی سطح پر خاطر خواہ ثمرات پیدا نہیں کر سکے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے جولائی تا ستمبر 2025ء کے سہ ماہی جریدے ’’ڈسکورس‘‘ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم نے صوبوں کو تاریخی خودمختاری فراہم کی، لیکن ذمہ داری کے بغیر خودمختاری خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبے اپنی مجموعی پیداوار (GDP) کا ایک فیصد بھی ٹیکس کی صورت میں جمع نہیں کر پاتے۔ خدمات کا شعبہ ملکی GDP کا 57 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے، مگر اس سے حاصل ہونے والا صوبائی ٹیکس محض 0.5 فیصد سے بھی کم ہے۔ زرعی آمدنی ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس جیسے ذرائع بھی بری طرح نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ صوبے خود صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) ایوارڈز کے نفاذ سے گریز کرتے ہیں، جس کے باعث ضلعی اور مقامی حکومتیں صوبائی گرانٹس کی محتاج رہتی ہیں۔ اس دوہری مرکزیت نے ایک ایسا مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دیا ہے جس میں صوبے وفاق پر اور اضلاع صوبوں پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ جوابدہی سب سے کمزور سطح یعنی مقامی حکومتوں میں نظر آتی ہے۔
نتیجتاً صوبوں کو اخراجات کے لیے سیاسی اختیار تو حاصل ہے، لیکن محصولات اکٹھے کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی۔ اس کا خمیازہ عوام کو کمزور تعلیمی نظام، ناقص صحت کی سہولیات اور غیر مؤثر بلدیاتی خدمات کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے، جبکہ وفاقی حکومت بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے اور قومی ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد NFC تشکیل دینا اور نیا ایوارڈ جاری کرنا لازمی ہے، لیکن افسوس کہ 2010ء کے بعد گزشتہ پندرہ برسوں میں آٹھواں، نواں اور دسواں قومی مالیاتی کمیشن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس صورتحال کے باعث NFC ایوارڈ میں اصلاحات کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں اور وفاق و صوبے مختلف مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے، جن میں عالمی مالیاتی فنڈ (IMF)، عالمی بینک (World Bank) اور اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (UNDP) شامل ہیں، پاکستان کے NFC نظام میں اصلاحات کی سفارش کرتے ہیں۔ ان اداروں کے مطابق وسائل کی تقسیم میں آبادی کے عنصر پر حد سے زیادہ انحصار کم کیا جانا چاہیے اور غربت، محصولات کی وصولی اور انسانی ترقی کے اشاریوں کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔ عالمی بینک اور UNDP مزید تجویز کرتے ہیں کہ وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں انسانی ترقی کے اشاریے (HDI)، (خصوصاً تعلیم اور صحت کے نتائج)، ماحولیاتی پائیداری (جیسے جنگلات کا رقبہ اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت) اور صنفی مساوات (خصوصاً خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت) جیسے اشاریے شامل کرنی چاھیے۔
بین الاقوامی ماہرین اس امر پر بھی زور دیتے ہیں کہ حقیقی مالیاتی انصاف اسی وقت ممکن ہے جب وسائل کی تقسیم کا نظام صوبوں سے آگے بڑھ کر ضلعی اور مقامی حکومتوں تک منتقل کیا جائے۔ UNDP اور PIDE جیسے تحقیقی اداروں کے ماہرین مستقل بنیادوں پر کام کرنے والے ایک خودمختار، فنی مہارت رکھنے والے NFC سیکریٹریٹ کے قیام کی بھی سفارش کرتے ہیں تاکہ عارضی اور سیاسی بنیادوں پر تشکیل پانے والے کمیشنوں کی جگہ ایک مؤثر اور پائیدار ادارہ قائم ہو سکے۔ پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کا مستقبل اسی بات سے وابستہ ہے کہ وسائل کی تقسیم کو محض سیاسی مفادات کے بجائے شفافیت، کارکردگی، جوابدہی اور عوامی فلاح کے اصولوں کے مطابق استوار کیا جائے۔ NFC ایوارڈ اگر حقیقی معنوں میں قومی یکجہتی، علاقائی توازن اور پائیدار ترقی کا ذریعہ بننا ہے تو اس میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔
