تحریر راجہ عمر فاروق
ہمارا سیاسی نظام ہمیشہ سے لوٹا کریسی اور پیسے کی سیاست کے سیاہ دھاگوں سے بُنا ہوا رہا ہے۔ جہاں اصول، وفاداری اور طویل جدوجہد کی کوئی قدر نہیں، وہاں موقع پرستی، دولت اور پرانی وفاداریوں کی تبدیلی کو سب سے بڑا کمال سمجھا جاتا ہے۔ نون لیگ ہو، پیپلز پارٹی ہو یا تحریک انصاف، تینوں بڑی جماعتوں سمیت تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں اسی ایک ہی سانچے میں ڈھل چکی ہیں۔ الیکشن کے موقع پر جب ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ آتا ہے تو پارٹی قیادت کی نگاہیں سب سے پہلے ان لوگوں کی طرف اٹھتی ہیں جو ماضی میں کسی نہ کسی دوسری جماعت سے تعلق رکھتے رہے ہوں، جو الیکشن مہم میں کروڑوں روپے لٹانے کی صلاحیت رکھتے ہوں یا جن کے پاس مقامی اثر و رسوخ، ووٹر بینک اور پیسہ ہو۔ یہ لوٹے، جو آج ایک پارٹی کے جھنڈے تلے کھڑے ہیں اور کل دوسری پارٹی میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں، انہیں “تجربہ کار سیاستدان” کا خطاب دے کر نوازا جاتا ہے۔ ان کی سابقہ وفاداریوں کی تاریخ کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ الٹا انہیں پارٹی کا ستون قرار دے کر اعزاز بخشا جاتا ہے۔ جبکہ وہی سادہ لوح کارکن، جو برسوں سے پارٹی کے لیے سڑکوں پر نکلتا رہا، جیلوں کا سامنا کرتا رہا، تنہائی کے لمبے عرصے گزارتا رہا، احتجاج کی اگلی صف میں کھڑا رہا، اس کی خدمات کو صرف ایک جملے میں ختم کر دیا جاتا ہے: “پارٹی ڈسپلن پر عمل کرو۔”
یہ جملہ ہمارے سیاسی کلچر کا سب سے بڑا ظلم بن چکا ہے۔ پارٹی ڈسپلن کا نام لے کر ان لوگوں کو خاموش کر دیا جاتا ہے جنہوں نے پارٹی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا حصہ دے دیا۔ وہ نوجوان جو طلبہ سیاست سے شروع کر کے ضلعی سطح تک پہنچے، وہ بزرگ جو پارٹی کے لیے اپنا کاروبار تک قربان کر بیٹھے، وہ خواتین کارکن جو گھر کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بھی جلسوں میں شرکت کرتی رہیں ان سب کو ایک ہی لفظ میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کے پاس پیسہ نہیں، ان کے پاس “الیکٹیبل” ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں، اور سب سے بڑھ کر ان کے پاس موقع پرستی کی تاریخ نہیں۔ اس نظام میں ایک عجیب سا تضاد موجود ہے۔ عوام میں مقبول شخصیت اگر پارٹی کے لیے نیا ہے تو اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ الٹا وہ شخص جو پہلے پیپلز پارٹی میں تھا، پھر نون لیگ میں چلا گیا، اب تحریک انصاف میں آ کر بیٹھا ہے، اسے “اسٹریٹجک فیصلہ” کہا جاتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سیاست میں لچک ضروری ہے۔ مگر یہ لچک صرف انہی لوگوں کے لیے ہے جن کے پاس دولت اور مقامی ووٹ بینک ہو۔ غریب کارکن کی لچک کو تو “باغی” کہہ کر پارٹی سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اسی لوٹا کریسی کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ 1980 اور 90 کی دہائی میں جو لوگ ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں منتقل ہوتے تھے، انہیں “جھولا چھاپ” کہا جاتا تھا۔ آج یہی عمل بلکہ اس سے بھی زیادہ منظم اور بے شرم انداز میں جاری ہے۔ 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف نے بہت سے لوگوں کو ٹکٹ دیے جو کل تک مخالف پارٹیوں میں فعال تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پارٹی کے پرانے کارکنوں میں شدید مایوسی پھیل گئی۔ کئی جگہوں پر تو وفادار کارکنوں نے خود ہی احتجاج کیا اور آزاد امیدوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ اسی طرح نون لیگ اور پیپلز پارٹی بھی اپنے پرانے ساتھیوں کو نظر انداز کر کے نئے “امیر مہمانوں” کو خوش آمدید کہتی رہی ہیں۔ اس عمل نے ہماری سیاست کو ایک کاروباری ادارے میں تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں ٹکٹ کو ایک سرمایہ کاری کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ جو شخص زیادہ پیسہ لگائے گا، وہ جیتنے کے بعد زیادہ منافع کما کر واپس لائے گا۔ اس حساب کتاب میں وفاداری، نظریہ اور عوامی خدمت جیسے الفاظ صرف تقاریر میں استعمال ہوتے ہیں۔ حقیقت میں ان کی کوئی جگہ نہیں۔ نتیجتاً ہمارے اسمبلیوں میں ایسے لوگ بیٹھتے ہیں جن کا مقصد صرف ذاتی مفاد، خاندانی کاروبار کو بچانا اور اقتدار کے مزے لوٹنا ہوتا ہے۔ قومی مسائل، عوامی مسائل، معاشی بحران، تعلیم، صحت — یہ سب ان کے ایجنڈے میں کہیں نہیں ہوتے۔ اس لوٹا سیاست کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ عوام کے اعتماد کو مسلسل کھوکھلا کر رہی ہے۔ جب ایک عام شہری دیکھتا ہے کہ جس پارٹی کے لیے وہ ووٹ دیتا ہے، اس پارٹی نے اس کے علاقے میں ایک ایسے شخص کو ٹکٹ دے دیا جو چند ماہ پہلے تک مخالف پارٹی کا جلسہ کر رہا تھا، تو اس کے دل میں سیاست کے لیے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ آخر کار یہ سب ایک کھیل ہے، جس میں عام آدمی صرف ووٹ کا استعمال ہونے والا آلہ ہے۔ اسی وجہ سے ووٹ کی شرح کم ہوتی جا رہی ہے اور سیاسی بے حسی بڑھ رہی ہے۔ کارکنان کی دل برداشتگی اب عروج پر ہے۔ بہت سے پرانے کارکن اپنی اپنی پارٹی چھوڑ کر گھر بیٹھ گئے ہیں۔ کچھ نے نئی تحریکوں کا رخ کیا ہے۔ کچھ نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ مگر ان سب کے دل میں ایک ہی سوال ہے کیا ہماری خدمات کی کوئی قدر نہیں؟ کیا برسوں کی قربانیاں صرف اس لیے تھیں کہ جب الیکشن کا وقت آئے تو کوئی امیر لوٹا آ کر ہماری جگہ لے جائے؟ پارٹی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ پارٹی صرف چند بڑے لیڈروں کا نام نہیں ہوتی۔ پارٹی وہ ہزاروں کارکن ہوتے ہیں جو گرمی، سردی، بارش اور خطرے میں بھی پارٹی کا پرچم اٹھائے کھڑے رہتے ہیں۔ اگر انہیں مسلسل نظر انداز کیا گیا تو پارٹی کی جڑیں کمزور ہو جائیں گی۔ ایک دن ایسا آئے گا جب یہ جڑیں اتنی کمزور ہو جائیں گی کہ کوئی بھی طوفان پارٹی کو اکھاڑ پھینک دے گا۔
سیاسی جماعتوں کو اب سوچنا ہوگا کہ کیا وہ ایک نظریاتی اور عوامی پارٹی بننا چاہتی ہیں یا صرف ایک الیکٹیبل مشین؟ اگر وہ عوامی پارٹی بننا چاہتی ہیں تو پھر ٹکٹوں کی تقسیم میں وفاداری، خدمات، کردار اور عوامی مقبولیت کو بنیاد بنانا ہوگا۔ پیسے اور لوٹے کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ جماعتیں صرف عارضی کامیابیاں حاصل کرتی رہیں گی، مگر عوام کے دلوں اور جلسے صرف ایک کھوکھلا تماشا بن کر رہ جائیں گے۔
