بھارتی معیشت کے اعداد و شمار پر سوالات، ماہرین نے مودی حکومت کے دعووں کو چیلنج کردیا
سابق بھارتی فنانس سیکرٹری سبھاش چندرا گرگ اور سابق گورنر رگھورام راجن نے معاشی اعداد و شمار اور شرح نمو پر سوالات اٹھا دیے
بھارتی ماہرین اقتصادیات نے مودی حکومت کے معاشی ترقی کے دعووں پر سوالات اٹھاتے ہوئے ملکی معیشت سے متعلق جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سابق بھارتی فنانس سیکرٹری سبھاش چندرا گرگ نے گزشتہ سال کی جی ڈی پی کے تخمینے سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ معاشی شرح نمو کو زیادہ ظاہر کرنے کے لیے اعداد و شمار میں تبدیلیاں کی گئیں۔
جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر اعتراضات
سبھاش چندرا گرگ کے مطابق اگر گزشتہ مالی سال کی جی ڈی پی میں مذکورہ تبدیلی نہ کی جاتی تو موجودہ قیمتوں پر رواں سال کی پہلی سہ ماہی کی شرح نمو 10.3 فیصد کے بجائے تقریباً 2.6 فیصد ہوتی۔
ان کے مطابق جی ڈی پی کے تخمینوں میں تبدیلیوں نے بھارتی معیشت کی حقیقی صورتحال کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔
رگھورام راجن نے بھی سوال اٹھا دیے
بھارتی ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھورام راجن نے بھی بھارتی معیشت کی تیز رفتار ترقی کے سرکاری دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر معیشت واقعی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے تو اس کے اثرات روزگار اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں نمایاں کیوں نہیں ہو رہے۔
اپوزیشن کا شرح نمو کے دعوے پر اعتراض
رائٹرز کے مطابق بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی 7.8 فیصد شرح نمو کے سرکاری دعوے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری قرار دیا ہے۔
معاشی ماہرین کے ان اعتراضات کے بعد بھارت کی معاشی شرح نمو اور جی ڈی پی کے سرکاری اعداد و شمار کی درستگی اور شفافیت پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
SEO Title
بھارتی معیشت کے اعداد و شمار پر سوالات، مودی حکومت کے معاشی دعوے چیلنج
Short Title
بھارتی معیشت کے اعداد و شمار پر سوالات
Meta Description
بھارتی ماہرین اقتصادیات نے مودی حکومت کے معاشی ترقی کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے۔ سابق فنانس سیکرٹری سبھاش چندرا گرگ اور رگھورام راجن نے جی ڈی پی اور شرح نمو کے اعداد و شمار پر اعتراضات کیے۔
