بھارتی جریدے دی وائر میں شائع پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کےمطابق؛ بیشتر بھارتی ریاستوں کے ضلعی اسپتالوں میں ماہرِ گردہ، ڈائیلاسزناکام مودی حکومت نے معیشت کے مختلف شعبوں کی طرح نظام صحت کو بھی سنگین بحران کے حوالے کردیابھارتی جریدہ دی وائرنے پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے حقائق کے ذریعے بھارت میں نظام صحت کی بدحالی کا بھانڈہ پھوڑدیا۔ ٹیکنیشن اور یورولوجسٹ دستیاب نہیں بھارت کی کم از کم29ریاستوں اور وفاقی علاقوں کے کسی بھی ضلعی اسپتال میں ماہرِ امراضِ گردہ موجود نہیں،کئی بھارتی ریاستوں نے ضلعی اسپتالوں میں گردوں کے علاج کیلئے طبی عملے کی آسامیاں تک منظور نہیں کیں، پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی13 سے 16فیصدنوجوان گردوں کے مرض میں مبتلا ہے، مگر تازہ ڈیٹا موجود نہیں انڈین ایکسپریس میں شائع لانسیٹ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق؛
بھارتی نظامِ صحت غیر مساوی معیار، وسائل کے ناقص و غلط استعمال اورمالی تحفظ کے ناکافی انتظامات کا شکار ہےمودی سرکار نے صحت و تعلیم جیسے مسائل کی بجائے ہندوتوا کے ذریعے اقتدار مضبوط کرنے پر تمام تر توجہ مرکوز کر رکھی ہے ۔
