پمز آتشزدگی: شرمیلا فاروقی کا وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ
اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 بچوں کی ہلاکت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
شرمیلا فاروقی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پمز واقعے کے بعد صرف سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹانا کافی نہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے ایک افسر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ اس المناک واقعے کی ذمہ داری صرف ایک عہدیدار تک کیوں محدود رکھی جائے۔
پیپلز پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر حکومتی نظام میں سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری کا تصور موجود ہے تو وفاقی وزیر صحت کو بھی اس سانحے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے وفاقی اسپتال براہِ راست وفاقی وزارت صحت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ایسے اداروں میں مریضوں کی حفاظت، انتظامی نگرانی اور بنیادی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانا وزارت کی اہم ذمہ داری ہے۔
شرمیلا فاروقی کے مطابق اگر وزارت کے زیر انتظام اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور نگرانی کے بنیادی تقاضے پورے نہیں کیے جا سکے اور اس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں تو پھر وفاقی وزیر صحت کی ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پمز واقعے کی مکمل اور غیر جانب دار تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔
پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے نے وفاقی دارالحکومت کے طبی اداروں میں ایمرجنسی اور فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ واقعے کے بعد انتظامی غفلت، حفاظتی اقدامات اور اسپتالوں کی نگرانی سے متعلق بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
