پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں”
اسلام آباد( عباس جعفر، ڈسٹرکٹ نیوز ) پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دور اندیش حکمتِ عملی پر مبنی اجتماعی سلامتی کا مجوزہ دفاعی معاہدہ دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات کا قدرتی ارتقا اور باقاعدہ قانونی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات تحریکِ خلافت (1919–1924) سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات، اسٹریٹجک تعاون، سیاسی، اقتصادی اور عوامی روابط طویل عرصے سے قائم ہیں۔
بیان کے مطابق موجودہ دور میں خطہ بڑے اسٹریٹجک تغیرات، علاقائی تنازعات، سیکیورٹی چیلنجز اور جنگ کے بدلتے ہوئے انداز سے گزر رہا ہے، جس کے باعث ایسے ممالک کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جو استحکام اور اجتماعی سلامتی کے مشترکہ مقاصد رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں سہ فریقی فریم ورک کو کسی مذہبی اتحاد کے بجائے علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سہ فریقی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اجتماعی سلامتی و اجتماعی Deterrence کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر بیرونی حملہ تینوں ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ تصور کیا جائے گا، کیونکہ ایسی جارحیت کے اثرات پورے خطے کے امن، استحکام، خوشحالی اور مستقبل پر مرتب ہوتے ہیں۔ واضح کیا گیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ قابلِ اعتماد دفاعی صلاحیت کے ذریعے تنازعات کی روک تھام اور امن کو فروغ دینا ہے۔
بیان میں اس شراکت داری کی مشترکہ صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں پاکستان کی عسکری طاقت، جنگی مہارت اور طاقت کے ذریعے کشیدگی پر قابو پانے کی اسٹریٹجک صلاحیت، سعودی عرب کی مرکزی حیثیت، مضبوط معیشت اور واضح وژن رکھنے والی قیادت، جبکہ ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی، صنعتی صلاحیت اور لچک شامل ہیں۔ کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک کی دور اندیش قیادت ان تمام صلاحیتوں کو یکجا کر کے ایک متوازن سیکیورٹی آرکیٹیکچر تشکیل دے سکتی ہے جو ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
بیان کے مطابق پاکستان معرکۂ حق کے بعد اور ایران و امریکہ کے عسکری تنازع میں ثالثی کے کردار کے نتیجے میں ایک قابلِ اعتماد سیکیورٹی ضامن کے طور پر ابھر رہا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی قیادت کے سعودی عرب، ترکیہ، ایران، دیگر علاقائی ممالک، امریکہ اور چین کے ساتھ تعمیری تعلقات اسے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فریم ورک کی کامیابی سعودی، ترک اور پاکستانی قیادت کے اخلاص، وضاحت اور صلاحیت پر منحصر ہے، جنہوں نے بحرانوں کے دوران ذمہ دارانہ طرزِ عمل، عسکری تیاری کے ساتھ اسٹریٹجک تحمل اور قومی سلامتی پر سمجھوتہ کیے بغیر سفارت کاری کو فروغ دینے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ عسکری صلاحیتوں، انٹیلی جنس تعاون اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کو یکجا کر کے تینوں ممالک اجتماعی سلامتی اور اجتماعی Deterrence کا ایسا فریم ورک قائم کر سکتے ہیں جو قابلِ اعتماد دفاعی تعاون کے ذریعے جارحیت اور تنازعات کے امکانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے۔
بیان کے آخر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ کسی بھی صورت “مسلم نیٹو” نہیں اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی ایٹمی ضمانت شامل ہے۔ اسے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک منطقی قدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ایک غیر جارحانہ دفاعی اتحاد ہے، جس کا مقصد اجتماعی سلامتی اور Deterrence کو مضبوط بنانا، خود انحصاری کو فروغ دینا، پہلے سے موجود دفاعی تعاون کو قانونی شکل دینا، علاقائی استحکام کو تقویت دینا اور امن میں خلل ڈالنے والی روایتی قوتوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
