افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ ہے، ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے، تاہم ملک اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے اور اس حوالے سے مکمل تیار ہے۔
اسلام آباد میں نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی آ رہی ہے، جو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے باعث ایک ہزار 360 پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
انہوں نے کہا کہ تمام مسائل اور جنگوں کا حل سفارت کاری کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے اور پاکستان نے کبھی افغانستان کے ساتھ سفارتی رابطوں پر شرمندگی محسوس نہیں کی۔ چین، ازبکستان اور دیگر ممالک کو بھی افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی پر تحفظات ہیں۔
ترجمان نے مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق کہا کہ اس کی توسیع کے لیے ہر ملک کا اپنا طریقہ کار ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب اپنا طریقہ کار مکمل کر چکے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنی پارلیمنٹ کے ذریعے توسیع کے عمل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا جو مسودہ سامنے آیا ہے، پاکستان اس کی توثیق کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر اور ایران کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے ہیں اور وہ آر فور اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ چکے ہیں۔ آر فور اجلاس کے بعد آر فور پلس ای تھری اجلاس بھی ہوگا، جو اس فارمیٹ کا پہلا اجلاس ہوگا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان عالمی برادری کا ایک اہم رکن ہے۔
