اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پمز سانحے کی تحقیقات کے بعد تمام فیصلے شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں گے اور واقعے کا جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اسے کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے، جو حقائق سامنے لائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ داری کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پمز سانحے کی مکمل تحقیقات کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بھی قائم کی جائے، تاہم اس کمیٹی کے لیے کوئی مقررہ مدت نہ رکھی جائے تاکہ وہ تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے سکے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس قائم مقام اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت ہوا، جہاں پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے پمز سانحے پر بحث کے لیے اسمبلی کا بزنس معطل کرنے کی درخواست کی۔ ڈپٹی اسپیکر نے اعلان کیا کہ اجلاس میں آج صرف پمز سانحے پر بحث ہوگی۔
ایوان میں پمز سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین اور اہل خانہ کے لیے دعا بھی کی گئی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک حادثہ ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے واقعے کے روز ہی دو تحقیقاتی کمیٹیاں قائم کردی تھیں۔ ایک کمیٹی سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں ہے، جو ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی، جبکہ دوسری کمیٹی ڈاکٹر اظہر کیانی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے اور اسے سات روز میں رپورٹ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ایسے واقعات کے بعد صرف کمیٹیاں بنانے کے بجائے مستقل بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نرسری میں آگ لگنے کے وقت نومولود بچوں کی نگرانی پر کون موجود تھا اور دروازوں پر تالے کیوں لگائے گئے تھے۔
راجہ پرویز اشرف نے وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹیوں کے ساتھ اسپیکر کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی بنانے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ واقعے کے تمام حقائق سامنے آسکیں۔
قومی اسمبلی میں ڈاکٹر امجد نے صحت کے نظام سے متعلق سابقہ تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے کئی بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹرز موجود نہیں تھے۔ انہوں نے ہسپتالوں کی رجسٹریشن، معائنہ اور نگرانی کے نظام میں بھی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ پر بھی دباؤ رہا اور ایک سال گزرنے کے باوجود اسے ایوان میں پیش نہیں کیا جاسکا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحت کے اداروں کی نگرانی اور حفاظتی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
