راولپنڈی: گھریلو ملازم کمسن بچے پر مبینہ تشدد کے واقعے میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ متاثرہ بچے کا ویڈیو بیان منظرِ عام پر آنے کے بعد پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ویڈیو بیان میں بچے، علی جبار، نے بتایا کہ اس پر اس سے پہلے بھی تشدد کیا جاتا رہا، جس کے باعث اس کے بازو پر سوجن آ گئی تھی۔ اس نے مزید بتایا کہ اس کی ٹانگ پر بھی مارپیٹ کی گئی، جس کے نشانات اب بھی موجود ہیں۔
بچے کے مطابق اس پر مبینہ تشدد عادل ساجد نامی شخص نے کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک روز چھت اچھی طرح صاف نہ ہونے پر پہلے اسے ڈانٹا گیا، اور بعد میں پانی کے بغیر صفائی کرنے پر اس پر تشدد کیا گیا۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم عادل ساجد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں بچوں پر تشدد اور بدسلوکی سے متعلق دفعہ 328 اے بھی شامل کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو اور شکایت کے بعد عمل میں لائی گئی۔ وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک رہائشی نے اپنے سامنے موجود گھر میں کمسن بچے پر مسلسل تشدد ہوتے دیکھا اور اس کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ پہلے گھر کے سربراہ اور بعد ازاں ان کے بیٹے کو بچے پر مبینہ تشدد کرتے دیکھا گیا۔ پوسٹ کے مطابق ویڈیو سامنے والے فلیٹ کی کھڑکی سے بنائی گئی تھی، جبکہ متعدد مواقع پر بچے کو لوہے کی راڈ سے مارنے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی معلومات میں گھر کی بیرونی تصویر اور مقام بھی شامل تھا، جبکہ پولیس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ بچے کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
